خالد علیم کی نعت
خالد علیم کی نعت میں جذبے، علم اور ریاضتِ فنی کا ایک ایسا امتزاج ملتا ہے جو عجلت کے اس دور میں بہت کم یاب ہے۔ یہ ریاضتِ فنی ان کے ہاں حسب کے علاوہ نسب کا درجہ بھی رکھتی ہے کہ جس گھر سے ’’شاہنامہ بالاکوٹ‘‘ اور’’ طلع البدر علینا‘‘ کا طلوع ہوا ہو، اتنی ریاضت تو اس کی فضا میں رچی ہوئی ہوتی ہے۔
’’محامد‘‘ میں گو بیش تر انحصار قصیدہ و غزل ہی کی ہیئت پر رہا ہے تاہم مسدس، آزاد نظم اور رباعی کی مشکل صنف کو بھی کامیابی سے برتا گیا ہے۔ خالد علیم کے ہاں مضامینِ نعت ذاتی عقیدت کی وارفتگی سے لے کر آفاقی امکانات کی دستک تک، اپنی گوناگوں وسعتوں کے امین ہیں۔ نعت ان کے نزدیک کیفِ شرابِ طہور سے لے کر دولت ِفہم و شعور اور سلطنت ِبے ثغور تک سب کچھ ہے۔ وہ اللہ سے قدسی و بوصیری و جامی، سعدی و نظیری و نظامی اور اقبال و گرامی کا جذبہ، فکر اور لہجہ مانگ کر آگے بڑھے ہیں۔ امید ہے کہ اس نورانی تسلسل میں جادۂ نعت پر ’’محامد‘‘ کا یہ چراغ، آنے والوں کے لیے دلیلِ راہ ثابت ہوگا اور اس کی لو سے اور چراغ روشن ہوں گے۔
ڈاکٹر خورشید رضوی
