خالد علیم ۔۔۔ معروضات

معروضات

فنی نقطۂ نظر سے نعت، حضور ﷺ کے اوصاف و محاسن کا بیان ہے۔ اس کا لغوی مفہوم اگرچہ وصف ہے اور وصف نگاری کسی شخصیت کے لیے بھی ہو سکتی ہے ، لیکن اصطلاحی مفہوم کے اعتبار سے حضور ﷺ کی وصف نگاری ہی کو نعت کہا جائے گا۔ اس تناظر میں حضورﷺ کے اوصافِ حسنہ کے ذکر کے بجائے اگر مدّعا طلبی اور آپ سے وابستگی و والہیت اور دلی جذبات کے اظہار کا پہلو بھی شامل ہو تو اسے میں نعتیہ جذبات نگاری سے تعبیر کرتا ہوں، اوریوں میرے نزدیک نعت نگاری نعتیہ جذبات نگاری کی صورت گری بھی ٹھہرتی ہے۔
اس باب میں جو کچھ میرے حیطۂ سخن میں ہے ، اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور نبی کریم ﷺ سے عقیدت و محبت کا سرمایۂ اظہار ہے۔ نعت نگاری میں اس کے بغیر نعت نگار کا ایک لفظ بھی معتبر نہیں ٹھہرتا کہ اس باب میں اظہار کی ساری قوتیں سلب ہو جاتی ہیں اور شہپرِ فکر ایک پرِ کاہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا ، جب کہ مجھ ناتواں کا اظہار و بیان میں یہ عالم ہے کہ ؎

لکھ سکے اُسؐ کے محاسن کا بیاں لفظوں میں
اتنی طاقت ہی کہاں خامۂ ادراک میں ہے

سچ تو یہ ہے کہ انسان کی فکری بساط اس موضوع میں اتنی بے حیثیت ہے کہ نعت کا اصل حق ادا کرنے سے قاصر ہے ۔ فکر ِ انسانی کی اِس بے بضاعتی کے سبب مجھ جیسے کج مج بیاں کے لیے ایک ذرّۂ کم مایہ تو کیا ، اس سے بھی کہیں زیادہ کم تر ی کا احساس ہونے لگتا ہے۔۔۔ اور اس حوالے سے لب کشائی کرتے ہوئے دل میں اپنی ہزار کوتاہیوں اور فکری و عملی فروگزاشتوں کا احساس تقویت حاصل کرنے لگتا ہے۔ اس باب میں اظہار و بیاں کی ناتوانی اور ممدوحِ کائنات کے اوصافِ منزہ کی وسعت و بے کرانی اپنی جگہ ، ممدوح ؐ کا اسمِ مطہر، جو اَزخود اُس کے محامدِ بے کنار کا ایک نغمۂ تقدیس ہے، ہونٹوں سے ادا ہو تو یوں لگتا ہے کہ اس نام کی عظمت و رفعت کے مقابل انسانی فکر و فن کے تمام پہلو بے مقدار ہیں۔۔ اور جہاں فکر و عمل کا یہ پہلو ہو کہ ہر نفس اس کے اسلوبِ سیرت سے ناآشنا ہو، جادۂ فکر اس کی عطا کردہ منزل سے بے بہرہ ہو تو خود ہی سوچیے، کیا عالم ہوگا، جب کہ؎

عرفیؔ مشتاب ایں رہِ نعت است نہ صحراست
آہستہ کہ رہ بر دمِ تیغ است قدم را
ہشدار کہ نتواں بہ یک آہنگ سرُودن
نعتِ شہِؐ کونین و مدیحِ کے و جم را

(عرفیؔ شیرازی)

اسی لیے الفاظ و بیاں پر بے پناہ قدرت رکھنے اور نئے سے نئے جہانِ معنی دریافت کرنے والاشاعر غالبؔ بھی اس احساس سے آگے نہ بڑھ سکا؎

غالب ثناے خواجہ بہ یزداں گزاشتم
کآں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمدؐ است

سو مجھ جیسے کوتاہ فکر کو یہ جرأت کہاں کہ نعت نگار ہونے کا دعویٰ کر سکے، بالخصوص اس عالم میں کہ قلم اُن کی مدح کے لیے اٹھتا ہے تو لفظ پیرہن دریدہ ہونے لگتے ہیں، اور اس اظہار کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا ؎

کیا لکھوں حضورؐ کا قصیدہ
ہر لفظ ہے پیرہن دریدہ

تاہم اب آخری صورت میں امید کا ایک پہلو ضرور ہے ،جو اِن پیرہن دریدہ لفظوں کے ایک ایک تار، ایک ایک حرف کو لائقِ اعتبار بنا دے، لیکن امید کا یہ پہلو بھی شاعر کے فکری خشوع و خضوع اور اس کی طبعی نیاز مندی کے بغیر ممکن نہیں۔ شرط یہ ہے کہ شاعر کی طبعی نیازمندی جذبات کی وحدتِ تسلسل میں پیرایۂ نعت میں ڈھل کر اپنی معنوی و فنی تب و تاب حاصل کر لے، کچھ اس سلیقے سے کہ وجودِ بے حضور فکر و تخیل کا شہپر اوڑھ کر دربارِ اقدس کی فضاے تقدیس میں جا پہنچے اور مجسم نغمۂ تقدیس بن جائے، اور پھر روح کا ایک ایک تار اس نغمۂ تقدیس کے لحنِ سرشار سے جھنجھنا اٹھے اور کیفیت یہ ہو کہ نگاہ سراپا عجز ہو، دل اُس روضہ پرُسرور کی جالیوں میں سمٹ جائے اور وجود ، حضوری کی سرمدی اور نور پاش فضا میں تحلیل ہو جائے ۔ اگرچہ نعت کا حق پھر بھی ادا نہ ہوگا، البتہ اظہار ِعجز و محبت کی ایک صورت ضرور نکل آئے گی ۔۔۔ مجھے اس اظہار ِعجز و محبت سے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اس نارسائی کے باوجود اگر کوئی مصرعہ یا ایک آدھ شعر نبی آخرالزماںﷺ کی مدحت میں کوئی تاثر پیدا کر سکا ہوتو یہ محض عطاے خداوندی ہے۔
اس احساس کے ساتھ اِس مجموعہ پر تقریظی کلمات کے سلسلے میں نہایت گرامی قدرحفیظ تائب صاحب ، ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب اور پروفیسر جعفر بلوچ صاحب کا انتہائی ممنون ہوں کہ انھوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے مجھے وقت دیا اور اپنی گراں قدر آرا سے مستفید فرمایا۔ جعفر بلوچ صاحب نے قدرے تفصیل سے میرے اور والد ِ گرامی حضرت علیم ناصری کے حوالے سے ایک تعلقِ خاطر کے ساتھ جن خیالات کا اظہار فرمایا ، میں سمجھتا ہوں، یہ ان کے خالصتاً مشفقانہ جذبات کا اظہار ہے۔ میں ان کا ممنون ہوں۔ ۔۔ اور مجھے اس پر فخر ہے کہ شاعری کے آغازِ سفر ہی میں نعت کی طرف مائل ہونے اورباقاعدہ نعت کہنے کی کوشش میں والد گرامی کی تربیت و رہ نمائی،ذوقِ خاص، اور سب سے بڑھ کر پیغمبر آخرالزماں، خاتم النبیین رسول اللہ ﷺ کے امتی ہونے کی حیثیت سے اس فرض کی ادائی کا عملی پہلو ہے جو قرآنِ حکیم میں مذکور ہے :
اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہ، یُصَلُّوْنَ عَلیَ النَّبِی، یٰاَیُّہَا الّٰذِینَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلّمِوْا تَسْلِیماً۔

(الاحزاب۔۵۶)
اپنی نعتیہ شاعری کے حوالے سے اُن دو تحریروں کے اقتباسات بھی اس مجموعہ میں شامل کر رہا ہوں جو کچھ سال پہلے شائع ہوئیں۔ صاحبِ فکر شاعر حامد یزدانی کا مضمون ماہنامہ ’’شام و سحر ‘‘ کے نعت نمبر۔۶ میں میری نعتیہ شاعری کے جائزے کے طور پر شائع ہوا تھا۔اس طرح منفرد سخن وَر اور بے مثال طرزِ ِاظہار کے نعت گو شاعر جناب خالد احمد کی تحریر ان کے کالم ’’لمحہ لمحہ‘‘ کے حوالے سے روزنامہ’’ امروز‘‘ میں میرے نعتیہ قصیدہ ’’محامد‘‘ کے متن کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ انھوں نے سترہ سال پہلے جس خاص رنگ و آہنگ اور اپنے مخصوص پیرایۂ اظہار میں میرے نعتیہ قصیدہ پر اپنی رائے دی، میرے لیے بہرطور کسی اعزاز سے کم نہیں۔
مجموعے کا انتساب نہایت قابل احترام نعت گو شاعر حافظ محمد افضل فقیر مرحوم کے نام ہے۔ حافظ صاحب کی باکمال شخصیت ، اُن کی نعتیہ شاعری بالخصوص ان کی رباعی گوئی کے حوالے سے مجھے اُن سے ایک دلی تعلق رہا ہے۔ وہ عالمانہ بصیرت اورعربی، فارسی اور اردو زبان و ادب پر گہری نظر کے ساتھ علمِ عروض پرجس قدر ددسترَس رکھتے تھے، اہلِ نظر اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔رباعی کی فنی نزاکتوں اور طبعی لطافتوں سے جتنے وہ آشنا تھے، شاید ہی کوئی ہو۔ مجھے ان کی دل کش گفتگو، اوراُن کی شفیقانہ اور استادانہ رفاقت کے باعث کم عمری ہی میں رباعی کے فنی رموز اور اس صنف ِ سخن کی لطافتوں سے جو آگاہی ملی، وہ شاید تمام عمر کے مطالعے اور تجربے سے بھی حاصل نہ ہو سکتی۔ بالخصوص اُن کے اس اندازِ نظرسے کہ:
’’رباعی ۔۔۔اپنے زحافاتی حسن اور تغیراتی کمال کے باعث ملائِ اعلیٰ سے قلبِ شاعر پر نازل ہونے والے ہر لطیفۂ نور کو اس کی رعنائیوں سمیت اپنے اندر سمیٹ سکتی ہے‘‘
میں غیر محسوس انداز میں اِس کی لطافتوں کا اسیر ہوتا گیا اور تخلیقی لمحات میں دیگر اصنافِ شعر کے مقابل جتنی آسانی اِس صنف سخن نے مہیا کی، مجھے یہ اندازہ کرنے میں کوئی دشواری نہ ہوئی کہ اس کے زحافاتی حسن اور تغیراتی کمال میں فکر و فن کی کتنی لطافتیں پنہاں ہیں، اوراظہار و بیان میں کس قدر دل کشی پیدا ہونے کا سلیقہ موجود ہے رباعی کے دومصرعوں میں حافظ محمد افضل فقیر مرحوم کے نام انتساب کو بھی میں اُن کی لطافت ِفکر اور تربیت ِنگاہ کا عطیہ سمجھتا ہوں۔
یہاں اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ زیرِ نظر نعتیہ مجموعہ کا بیش تر سرمایہ میری شاعری کے ابتدائی تخلیقی دَور کا حصہ ہے ، جو ستر کی دہائی کے نصف آخر سے اسی کی دہائی کے نصف اوّل پر مشتمل ہے۔ یہ وہ دور ہے جب فروغِ نعت کی تحریک اپنے پورے زور پر تھی اور نعتیہ شاعری کے افق پر نہایت تاب ناک ستارے اپنی تخلیقی آب و تاب سے جذبوں اور ذہنوں کو یقین و آگہی بخشنے کا ایمان افروز فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔ ان شعرا کی فکری جہت سازی اور باقاعدہ نعت گوئی کے عمل نے اس دور کے اُن غزل گو شاعروں کو بھی نعت کہنے کی تحریک بخشی جو ایک وقت میں نعت گوئی کو محض مذہبی ضرورت کی ایک علامت سمجھتے تھے اور اسے کوئی ادبی کاوش قرار دینے کے لیے ہرگز تیار نہ تھے۔ یہاں میری مراد اُن نعت گو شاعروں سے ہے جنھوں نے نعت گوئی کو دینی و ادبی تقاضوں کے تحت اختیار کیا ، نعتیہ مشاعروں کی بنیاد رکھی اور نعت کے موضوع پر مذاکروں اور نعت نمبروں کی عظیم الشان روایت قائم کی۔ ان نعت گو شاعروں میں سر فہرست محترم حفیظ تائب اور خالد بزمی، اور قدرے بعد میں خالد شفیق (سابق مدیر ماہنامہ ’’شام و سحر‘‘) اور راجا رشید محمود ( مدیر ماہنامہ ’’نعت‘‘) کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتاکہ میرے نزدیک یہ وہ قابل احترام شخصیتیں ہیں جن کی تحریک اور عملی کاوشوں کے زیر اثر آج نعتیہ ادب پر باقاعدہ مجلات شائع ہو رہے ہیں اور اس موضوع پر تحقیقی کام کا سلسلہ مزید جاری ہے۔
ان شعراے کرام کے علاوہ مَیں ان بزرگ نعت گو شعرا کوبھی کبھی فراموش نہیں کر سکتا، جن کے ساتھ میں اپنے، ابتداے نعت گوئی کے دَور میں نعتیہ مشاعروں میں صرف شریک ہی نہیں رہا ، بلکہ ان کی عالمانہ مجلسوں اور ان کی باہمی علمی گفتگو سے ایک خاموش طالب علم کی طرح استفادہ بھی کیا۔ ان میں نظیر لدھیانوی، عبدالعزیز خالد، حفیظ تائب، عارف عبدالمتین، حافظ لدھیانوی، حافظ محمد افضل فقیر، یزدانی جالندھری، انور فیروز پوری، راسخ عرفانی، پروفیسر خالد بزمی اور راز کاشمیری کے مشفقانہ حسنِ نظر اور اُن کے رشحاتِ قلم نے مجھے باقاعدہ اسیر رکھا اور میرے تخلیقی جذبے نے ان کے جذبہ و فکر اور ایمان افروز نعت گوئی سے اعتبار حاصل کیا۔ اب ان بزرگ شخصیتوں میں سے عبدالعزیز خالد؎ کا دم غنیمت ہے۔

خالد علیم
۱۷ ، جنوری ۲۰۰۴ء

؎ ۲۰۱۰ء میں جناب عبدالعزیز خالد بھی اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ اِنّا للہ وَاِنّا الیہِ راجِعُونْ

Related posts

Leave a Comment