پروفیسرجعفر بلوچ ۔۔۔ خالد علیم کا نغمۂ محامِد

خالد علیم کا نغمۂ محامِدْ

حضرت علیم ناصری اور ان کے فرزندِ ارجمند جناب خالد علیم دونوں اسلامی ادب کے قابلِ احترام نمائندے ہیں۔ ان دونوں معززینِ ادب کے ذکر سے مجھے اکثر زہیر بن ابی سلمیٰ اور ان کے سعادت مند بیٹے حضرت کعب بن زہیر یاد آ جاتے ہیں۔ جس طرح حضرت کعبؓ اپنے والد کے تربیت یافتہ تھے اسی طرح خالد صاحب بھی حضرت علیم کے سایہ پرور ہیں۔ جس طرح زہیر و کعبؓ اپنے ادوار کے اکابرِ ادب میں سے تھے اسی طرح حضرت علیم ناصری اور جناب خالدعلیم نے بھی اپنے ہم عصروں سے اپنے کمالِ فن کا لوہا منوایا ہے۔ البتہ ان دونوں جوڑوں میں ایک نمایاں فرق بھی ہے۔ زہیر و کعبؓ کے معاملے میں بیٹا باپ سے یمن و سعادت کے باب میں بہت آگے نکل گیا۔ اس لیے کہ اسے اسلام قبول کرنے اور نعت نگار ہونے کا شرف حاصل ہو گیا اور نعت کے حسنِ قبول کی علامت کے طور پر انھیں بارگاہِ نبوی ؐ سے چادرِ رحمت بھی عطا ہوئی، جب کہ حضرت علیم اور جناب خالد کا معاملہ یہ ہے کہ بفضل تعالیٰ باپ بیٹا دونوں حمد و نعت کہنے کی سعادت و برکت سے بہرہ مند ہیں اور ادب کی اس صراطِ مستقیم پر حضرت علیم جناب خالد کے خضرِ طریق بھی ہیں۔
زیر نظر مجموعۂ حمد و نعت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب خالد علیم نے اس کی تخلیق میں فکری اور فنی محاسن سے بھرپور کام لیا ہے اور میرے ادبی عقیدے کے مطابق حمد و نعت یا دینی ادب کی کوئی اور کاوش اعلیٰ ادبی معیار پر پورا اترنے کے بعد ہی ادب پارہ کہلا سکتی ہے۔ فنی لحاظ سے کمزور تخلیقی کوشش تو خود اپنے موضوع کے لیے بھی نعوذ باللہ تخفیف و استہزا اور انگشت نمائی کا باعث بن جاتی ہے۔ نعت گوئی رسول کائنات ﷺ سے اظہار عقیدت و ارادت کے ساتھ ساتھ انسانوں کو ان کی طرف اور ان کی وساطت سے اسلام کی طرف بلانے کا مبارک عمل ہے۔ نعت کا اچھا شعر سن کر ہم روحانی اور وجدانی طور پر جناب رسالت مآبﷺ سے قریب تر ہوتے ہیں اور ہمارے دل اور لب بے ساختہ درود شریف کا ورد کرنے لگتے ہیں۔
میں نعت گوئی یا نعت خوانی کو درود خوانی کا مترادف یا متبادل نہیں سمجھتا۔ میرے نزدیک نعت کہنا اور پڑھنا دراصل درود و سلام پڑھنے کے وسائل و محرکات میں شامل ہے۔ اگر کوئی نعت اپنے فکری یا فنی نقائص کی وجہ سے درود و سلام پڑھنے اور رسول پاک ؐ سے قربت حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ یا حجاب بن جائے تو کیا ایسی نعت کہنے سے خاموش رہنا بہتر نہ ہوگا؟ جناب خالد علیم کے زیرِ نظر کلام سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اس تخلیقی نکتے کو بطور خاص ملحوظِ خاطر رکھا ہے۔
زیر نظر مجموعۂ حمد و نعت سے پہلے جناب خالد علیم کا مجموعۂ نظم و غزل شائع ہو کر ارباب ِادب سے خراجِ تحسین وصول کر چکا ہے۔ حمد و نعت کے میدان میں بھی خالد صاحب تازہ وارد نہیں ہیں، اگر ان کے وسائل ساتھ دیتے تو ان کا یہ مجموعۂ حمد و نعت بھی برسوں پہلے شائع ہو چکا ہوتا۔
جناب خالد کی غیر معمولی قدرتِ کلام ہر ادب پرست قاری کو متاثر کرتی ہے۔ انھوں نے متعدد اساتذۂ فن کی زمینوں اور متعدد مشہور و معروف قصیدوں یا شعری شاہکاروں کے تسلسل میں دادِ سخن دی ہے اور اپنے نقوشِ کمال کی آب و تاب کو کہیں مدھم نہیں ہونے دیا۔ وہ مشکل اور کم مروج زمینوں اور بحروں میں بھی بڑی کامیابی اور حیرت انگیز سہولت کے ساتھ تخلیقِ فن کی منزلیں قطع کرتے ہیں۔ انھوں نے مردف زمینوں میں بھی متوجہ کرنے والے شعر نکالے ہیں۔ پابند و آزاد فنی ہئتیں ان کے وجدانی ریموٹ کنٹرول کے اشاروں کی فوری اور بلاتامل اطاعت کرتی ہیں۔ جناب خالد کی حمدیہ و نعتیہ رباعیاں بھی ایک خاص شان رکھتی ہیں۔ رفعت ِفن اور تقدسِ موضوع کے حوالے سے یہ رباعیاں ہمیں رباعیاتِ امجد حیدر آبادی کی یاد دلاتی ہیں۔
ان کی یہ تخلیقات اعلیٰ اور لائقِ حصول تخلیقی معیار کی حامل ہیں۔ میں جناب خالد علیم کے اس جاں پروَر مجموعۂ حمد و نعت ’’محامد‘‘ کی اشاعت کو دین و ادب کے لیے ایک نیک فال سمجھتا ہوں۔

پروفیسرجعفر بلوچ
۳۰، مئی ۲۰۰۲ء

Related posts

Leave a Comment