عجزاِظہار ۔۔۔ خالد علیم

عجزاِظہار
وہ شہنشاہِ ؐ معظم، وہ رسولِ ؐ اکرم
معدنِ ؐ علم و ادب، مخزنِ ؐ ایقان و حِکَم
آبروے ؐ حرمِ پاک، وقارِ ؐ عالم
آدمیّت کا بھرم، عظمتِ ؐ دینِ محکم

اُس کی توصیف مرے حیطۂ دانش میں کہاں
لڑکھڑاتا ہے قلم اور لرزتی ہے زباں

قوتِ فن کی بدولت ہو بیاں نعتِ رسول ؐ
اُلفتِ سیّدِ ؐعالم کو نہیں ہے یہ قبول
جذب اور کیف سے ہوتا ہے معانی کا نزول
حاصلِ سوزِ دروں ہی ہیں محبت کے اصول

آنکھ جب فرقت ِسرکار ؐ میں نم ہوتی ہے
مدحتِ سرورِ ؐ کونین رَقم ہوتی ہے

نعت کے واسطے میں سوزِ دوامی چاہوں
جذبۂ قدسی و بوصیری و جامی چاہوں
فکرِ سعدی و نظیری و نظامی چاہوں
لہجۂ حضرتِ اقبال و گرامی چاہوں

ہو مرے فکر میں خالد وہ روانی پیدا
ایک اک شعر میں ہو حسنِ معانی پیدا

Related posts

Leave a Comment