قتیل شفائی

برہنہ سر، لٹی املاک اور کچھ راکھ خیموں کی
مدینے کے سفر کا بس اتنا سا اثاثہ ہے

قتیل اب تجھ کو بھی رکھنا ہے اپنا سر ہتھیلی پر
کہ تیرے شہر کا ماحول بھی اب کربلا سا ہے

قتیل اس شخص کی تعظیم کرنا فرض ہے میرا
جو صورت اور سیرت میں محمّد مصطفٰی سا ہے

Related posts

Leave a Comment