رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا اِتنا مَیں چُپ ہُوا کہ تماشا نہیں ہُوا ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیں رستہ ہے اِس طرح کا جو دیکھا نہیں ہُوا مُشکل ہُوا ہے رہنا ہمیں اِس دیار میں برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہُوا وہ کام شاہِ شہر سے ، یا شہر سے ہُوا جو کام بھی ہُوا ہے وہ اچھا نہیں ہُوا مِلنا تھا ایک بار اُسے پھر کہِیں مُنیر ایسا مَیں چاہتا تھا پر ایسا نہیں ہُوا
Read MoreDay: جولائی 11، 2026
احمد ندیم قاسمی ۔۔۔ جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی
جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی تجھ کو پوجا ہے کہ اصنام پرستی کی ہے میں نے وحدت کے مفاہیم کی کثرت کر دی مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہے تیری الفت نے محبت مری عادت کر دی…
Read Moreغلام ہمدانی مصحفی
ہم مصحفی بہ کفر تو مشہور ہو چکے آنا قبول اب نہیں اسلام میں ہمیں
Read Moreراحت اندوری
اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے
Read Moreسعود عثمانی
دہکتی خاک پہ بادل بچھا دیا کس نے پڑی ہے تپتی ہوئی ریت پر ردائےحسین
Read More