راحت اندوری

ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستو دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو

Read More

راحت اندوری

وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرا میں اس کے تاج کی قیمت لگا کے لوٹ آیا

Read More

راحت اندوری

تیری محفل سے جو نکلا تو یہ منظر دیکھا مجھے لوگوں نے بلایا مجھے چھو کر دیکھا

Read More

راحت اندوری

نئے کردار آتے جا رہے ہیں مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے

Read More