ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستو دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو
Read MoreTag: راحت اندوری
راحت اندوری
وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرا میں اس کے تاج کی قیمت لگا کے لوٹ آیا
Read Moreراحت اندوری
بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہئے میں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہئے
Read Moreراحت اندوری
اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے
Read Moreراحت اندوری
تیری محفل سے جو نکلا تو یہ منظر دیکھا مجھے لوگوں نے بلایا مجھے چھو کر دیکھا
Read Moreراحت اندوری
نئے کردار آتے جا رہے ہیں مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے
Read Moreراحت اندوری
اک ملاقات کا جادو کہ اترتا ہی نہیں تری خوشبو مری چادر سے نہیں جاتی ہے
Read Moreراحت اندوری
تجھ سے ملنے کی تمنا بھی بہت ہے لیکن آنے جانے میں کرایہ بھی بہت لگتا ہے
Read Moreراحت اندوری
خیال تھا کہ یہ پتھراؤ روک دیں چل کر جو ہوش آیا تو دیکھا لہو لہو ہم تھے
Read Moreراحت اندوری
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا بھاری رکھو
Read More