ڈاکٹر شاہد اشرف
روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد
موجودہ دور میں غزل اور آزاد نظم ہر اعتبار سے اظہار کا بہترین وسیلہ تصور ہوتی ہیں۔ ان اصناف میں زندگی کا ہر موضوع بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان اصناف کا دائرۂ کار بہت وسیع ہے۔ قیام پاکستان کے بعد غزل میں فکری سطح پر غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ غزل میں فکری و فنی سطح پر تغیرات دِکھائی دیتے ہیں۔ خیال، موضوع، اُسلوب، ڈکشن اور تکنیک میں واضح تبدیلیاں ملتی ہیں۔ اُردو غزل ہر عہد میں ثروت مند رہی ہے۔ زندگی کے تمام رنگ اور کائنات کے تمام منظر اُردو غزل میں جلوہ گر ہیں۔
جناب غلام حسین ساجد ستر کی دہائی کے نمائندہ غزل گو شعرا میں سرِفہرست ہیں۔ وہ فکری اعتبار سے متمول اور فنی اعتبار سے نہایت پختہ شاعر ہیں۔ شعری کلیات’’ مزامیر‘‘ کی اوّل اور دوم اشاعت کے بعد’’ تجاوز‘‘ نے غزل کے کینوس میں نئے رنگ پیدا کیے ہیں۔ ابھی تجاوز کا سحر نہ ٹوٹا تھا کہ جناب غلام حسین ساجد نے ’’باغ نشاط کی طرف ‘‘ کی نوید سنائی۔ میں اِس مجموعے کا ٹھہر ٹھہر کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ یہ فکری تنوع کا عمدہ نمونہ ہے۔ اُنھوں نے اپنے پسندیدہ استعاروں چراغ، آئینہ، ہَوا، چاک، رات، دھوپ اور عکس کے ذریعے جہاں معانی تخلیق کیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ مجموعہ رومان، ذات، کائنات،آشوبِ زماں اور ناہمواریِ جہاں کی عکّاسی کرتا ہے۔ اُنھیں خیال کی تزئین اور الفاظ کی ترتیب میں کمال حاصل ہے۔ اُن کی غزلوں میں فکری و فنی ہر دو اعتبار سے شعری جمالیات کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ غزل کا اوّلین موضوع ’محبت‘ گردانا جاتا ہے۔ اِس موضوع کے ذیلی مضامین میں ہجرو وصال کو اوّلیت حاصل ہے۔ اِس باب میں ناآسودگی کا عنصر جدید غزل میں جابجا ملتا ہے۔ ناآسودگی ذہنی، رومانی، مادی، فکری اور شخصی رویوں سے عبارت ہوتی ہے:
شاید کہیں قرار ملے مجھ فقیر کو
شاید کسی کا ہو سکوں، اپنا تو ہوں نہیں
پہچاننے لگے ہیں سبھی آئنے مجھے
اب اور اِس نواح میں شاید رہوں نہیں
سیاسی معاملات کو علامتی اور استعاراتی سطح پر بیان کرنا قابلِ تحسین گردانا جاتا ہے۔ ناموافق حالات اور ریاستی جبر کا بھی یہی تقاضا ہے کہ شعراء ’’ایک بات بتانی ہے ایک چھپانی ہے ‘‘ کے اُصول کو اپنا کر خیال باندھیں۔ اِس حوالے سے صبح و شام، دن اور رات، بہار و خزاں اور اندھیرا اُجالا کی علامات میں گہری معنویت پائی جاتی ہے۔ اِن علامات کے ذریعے حکومتی عروج و زوال، جبر و استبداد اور امن و امان کے مضمون باندھنا آسان ہوگیا ہے۔ شعر ملاحظہ کیجیے:
رات رخصت ہوئی ہے عجلت میں
طاق پر اَدھ جلا اندھیرا ہے
٭
یہ اندھیرا مِرا مقدر ہے
یہ سیاہی ہے عمر بھر میری
حسیاتی اظہار کو واقعاتی اظہار پر فوقیت حاصل ہے۔ کیفیات کو خیال میں ڈھالنے کا ہنر خاص مہارت کا تقاضا کرتا ہے۔ یہاں الفاظ کا استعمال حد درجہ احتیاط کا حامل ہوتا ہے کیوں کہ بہرحال الفاظ ہی کیفیت اور خیال کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اِس ترجمانی میں تجربے اور مشاہدے کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ تخلیقی عمل کئی سطحوں پر ازخود انجام پاتا ہے۔ اِس عمل کی تعبیر آسانی سے نہیں کی جا سکتی ہے۔ ممکنہ اظہار کیا جاسکتا ہے:
ڈوبتا ہوں کبھی اُبھرتا ہوں
مجھ پہ حاوی ہے زیر و بم میرا
میری آنکھیں چھلک نہ جائیں کہیں
کاش باقی رہے بھرم میرا
٭
ایک عجیب سی سرشاری میں دھڑک رہا تھا دل، لیکن
میری پلکیں گیلی کر دیں آج توے کے تاروں نے
٭
دیکھتا ہوں قہقہے میں راہ پاتی بے کلی
اب تو اندر کی اُداسی بھی سنائی دے مجھے
غلام حسین ساجد کی شاعری میں چراغ اور آئینے کے استعاروں کا استعمال خیال کے کینوس کو ان لارج کر دیتا ہے۔ یہ استعارے معنیاتی وسعت تشکیل دینے میں معاون بنتے ہیں۔ یہ وسعت ذات، کائنات اور خدا تک پھیلی ہوئی ہے۔ وہ نہایت آسانی سے مشکل مضامین کو سادہ پیرائے میں ادا کرسکتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ دونوں استعارے اُن کی غزل کا جھومر سمجھے جاسکتے ہیں۔ اکثرغزلوں میں کوئی نہ کوئی شعر آئینے اور چراغ کے استعارے سے مزین ہے۔ کہیں کہیں ایک ہی شعر میں دونوں استعارے بھی ملتے ہیں جس سے معنیاتی جہتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ شاعری میں معنیاتی جہتوں کو ملحوظ رکھ ا جاتا ہے اور یہی پہلو شاعری کو نثر سے ممتاز کرتا ہے۔ نئی غزل میں یہ قرینہ ستر کی دہائی کے شعراء میں بدرجہ اتم موجود رہا ہے۔ غلام حسین ساجد اِس قرینے سے بخوبی آگاہ ہیں:
میں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے
صبح بھی آئینہ میری، رات بھی آئینہ ہے
٭
گزر رہا ہوں کسی بے چراغ کوچے سے
جلو میں کون ہے اپنے سوا نہیں معلوم
٭
خدا وہی ہے مِرا، میرا ناخدا ہے وہی
وہی چراغ مِرا، میرا آئینہ ہے وہی
٭
جل رہے ہیں چراغ آنکھوں میں
کیا ترے دھیان میں کہیں ہوں میں
٭
کوئی بدگماں ہے کوئی مہرباں
نظر مختلف، آئنہ مختلف
٭
میں جب کسی چراغ کی لو سے لپٹ گیا
آئینہ اپنی آنکھ کے اندر سمٹ گیا
٭
جان سے پیارے ہیں ساجدؔ اُس کو اپنے آئنے
اور ہیں میری متاعِ اوّلیں میرے چراغ
میرے نزدیک شعری خصوصیات میں ایمائیت کو کئی اعتبار سے استعاروں اور علامتوں پر برتری حاصل ہے۔ اِس کی بنیادی وجہ خیال کی تہ در تہ معنوی حیثیت ہے۔ جب قاری تھوڑی دیر ٹھہر کر شعر کی تفہیم کے مراحل طے کرتا ہے تو جمالیاتی لُطف حاصل کرتا ہے۔ شعر کے اندر اُتر کر خیال کی رعنائی تک رسائی خاص ادبی تربیت کی مرہونِ منّت ہوتی ہے۔ یہاں قاری اور شاعر کے مابین ایک فکری وحدت پیدا ہوتی ہے جو ہم آہنگی کی لذت سے ہم کنار کرتی ہے۔ خیال کی زیریں سطح بھی قاری کو نئے راویوں سے دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔ عموماً یہ سطح کیفیات مثلاً حیرت، ادُاسی، رنج وغیرہ سے عبارت ہوتی ہے۔ غلام حسین ساجد کی شاعری میں خیال کی زیریں سطح خاص لطف عطا کرتی ہے:
سلُگ رہا تھا تو اُس نے مجھے ہَوا دی تھی
میں جل اُٹھا تو ارادہ ہُوا، ہَوا کا اور
٭
باغ ہوں اور احاطے سے نکلنے کے لیے
گریہ کرتا ہوں کہ جنگل نہیں ہوتا ہوں میاں!
٭
مجھ سا کوئی ہے کسی اور زمانے میں کہیں
سو گیا میں تو کہیں نیند سے جاگا کوئی
٭
وہ سمجھتا تھا کہ میں راکھ نہیں ہونے کا
آگ دِکھلائی گئی صرف شرارت سے مجھے
غلام حسین ساجد کی غزل مروّجہ جدّت کے نام پر کہی گئی غزلوں سے قطعاً مختلف اور روایت سے گہری وابستگی کی غماز بھی ہے۔ اُن کے ہاں کئی سطحوں پر خیال، تکنیک اور اُسلوب میں واضح انفرادیت جھلکتی ہے۔ اُنھیں نئی غزل کے نمائندہ شعراء میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ وہ علمی قابلیت، فکری تنوع اور فنی پختگی کی بنا پر موجودہ ادبی منظر نامے میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ سات رنگوں سے تصویریں بنانے کا ہنر ہر مصور آزماتا ہے البتہ آٹھویں رنگ کی جستجو نہیں کرتا ہے۔ اِسی طرح سات سروں پر قناعت کی وجہ سے آٹھویں سُر کا تعاقب کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ میرا خیال ہے غلام حسین ساجد اپنے طویل شعری سفر کے بعد آٹھویں دروازے میں داخل ہو گئے ہیں:
آٹھویں سُر کے تعاقب میں ہوں ساجد آج تک
روح کی ڈھولک پہ شاداں، دل کی شہنائی پہ شا د
غزل میں نئی زمین، دریافت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس صنف میں نئی زمین کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے اور یہی بات غزل کو ثروت مند رکھتی ہے۔ نئی زمین، نئے خیالات کی ترتیب و تشکیل کا ذریعہ بنتی ہے۔ دو مصرعے بظاہر محدود لفظوں کے مرہونِ منّت ہوتے ہیں، لیکن تلازمے کی صورت میں خیال کی مختلف جہتوں کو سامنے لانے میں معاون بنتے ہیں۔ اِس اعتبار سے غزل کا دائرۂ کار وسیع متصور ہوتا ہے۔ جس میں زندگی کے تمام رنگ ملتے ہیں۔ غلام حسین ساجد نے ’’باغِ نشاط کی طرف‘‘ میں کئی نئی زمینیں تراشی ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:
لبوں سے پھول جھڑے، آنکھ سے ستارے جھڑے
وہ شرمسار ہوئے اور گنہ ہمارے جھڑے
٭
دستک پہ بھروسا ہے نہ کانوں پہ بھروسا
کیا کیجیے اِس حال میں کانوں پہ بھروسا
٭
رِدائے شب سے رُکا اور نہ رنگ و بو سے رُکا
مِرا زوال مِری قوت نمو سے رُکا
٭
دستکیں دینے سے حاصل، آئنہ بننے میں فیض
ایک لاحاصل عمل کا لاحقہ بننے میں فیض
اِن زمینوں میں نہ صرف تازگی کا احساس ہوتا ہے بلکہ تلازمے کی حیران کن صورت بھی سامنے آتی ہے۔ پہلے مصرعے کے بعد دوسرے مصرعے کی تشکیل میں مضمون کی رعایت سے لفظوں کی خوش نمائی کو ملحوظ رکھنا آسان نہیں ہوتا ہے۔ جانے کتنے مصرعوں کی قطع و برید کے بعد گوہرِ مقصود ہاتھ آتا ہے۔ وہ خیال کے پانچویں زاویے کی جستجو کرتے ہیں۔ عام شاعر صرف چار زاویوں تک رسائی رکھتا ہے۔ شاعری کا پانچواں زاویہ ہی قاری پر سحر طاری کر سکتا ہے کیوں کہ چار زاویے تو پہلے ہی اس کی نگاہ میں ہوتے ہیں۔ میں نے کئی شعروں میں ان کے طلسماتی ہنر کو دیکھا ہے۔ یہی ہنرعام شاعر سے خاص شاعر کو ممتاز کرتا ہے :
ستارے چن رہا تھا اپنی آنکھوں میں سجانے کو
کسی نے رات ساری کہکشاں برباد کر ڈالی
٭
کبھی گریز سے خائف، کبھی تجاوز سے
مِرا رقیب مجھے اپنے اندروں سے ملا
٭
ابھی میں پوری طرح ڈوب بھی نہیں پایا
ہُوا ہے نیند کے دریا میں اک چھناکا اور
اِن اشعار میں پہلا مصرع مضمون کی نوعیت اور خیال کی سمت کا تعین کرنے میں مدد نہیں دیتا ہے۔ دوسرا مصرعہ خیال کی غیر معمولی تزئین کے ذریعے تکنیک اور ہنر مندی کی غمازی کرتا ہے۔ شاعری فنون لطیفہ میں سب سے مشکل فن قرار دیا جا سکتا ہے۔ شاعری میں لفظوں کے انتخاب، نفسیات اور معنوی جہات کو حد درجہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ ہر شعر میں ایک لفظ دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کے ذریعے شعر کے اندر جھانکنے میں مدد ملتی ہے۔ شعر قاری کو اپنے اندر بھی بلا لیتا ہے۔ اب یہ فیصلہ قاری پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کچھ دیر شعر کے سات ھ رہتا ہے یا پھر زندگی بسر کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔
