دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
Read MoreDay: جون 11، 2026
وسیم بریلوی
رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گی دیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہے
Read Moreمجروح سلطان پوری
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
Read Moreعندلیب شادانی
دل پر چوٹ پڑی ہے تب تو آہ لبوں تک آئی ہے یوں ہی چھن سے بول اٹھنا تو شیشے کا دستور نہیں
Read Moreاداجعفری
دل کی آزردگی بجا لیکن وہ بھی محرومِ یک نگاہ رہے
Read Moreادا جعفری
پھر نگاہوں کو آزما لیجے پھر وفاؤں پہ اشتباہ رہے
Read Moreراحت اندوری
خیال تھا کہ یہ پتھراؤ روک دیں چل کر جو ہوش آیا تو دیکھا لہو لہو ہم تھے
Read Moreراحت اندوری
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا بھاری رکھو
Read More