ادا جعفری

سجدے تڑپ رہے ہیں جبینِ نیاز میں سر ہیں کسی کی زلف کا سودا لیے ہوئے

Read More

ادا جعفری

ابھی صحیفۂ جاں پر رقم بھی کیا ہوگا ابھی تو یاد بھی بے ساختہ نہیں آئی

Read More

ادا جعفری

یہ شعر ادا جعفری کی لطیف تخیلاتی پرواز اور نسوانی شعری حسیّت کا ایک حسین استعارہ ہے، جس میں جذبۂ محبت، اضطرابِ دروں، اور نگاہ کی جادوگری کو نہایت پراسرار اور باوقار پیرایے میں بیان کیا گیا ہے۔

Read More

ادا جعفری

اس شعر میں ادا جعفری نے ہوائے مست و مدہوش کو اس دلآویز انداز سے مصور کیا ہے گویا فطرت خود ساغر و مینا تھامے، کیف و نشاط کا جام لُٹا رہی ہو۔
یہ صرف بادِ نسیم کی خرامی نہیں، بلکہ روحِ کائنات کی نازنیں سرشاری ہے جو اپنے جلو میں وجدانی مسرّت، جمالی لطافت، اور حیات آفرینی لیے بہہ رہی ہے۔
شاعرہ کی نگاہِ حسّاس نے موسم کے معمولی جھونکوں کو عالمِ وجدان کی شرابِ ناب میں بدل کر پیش کیا ہے، جہاں فطرت کی ہر سانس گویا رقصِ لطافت بن گئی ہو۔
یہ شعر محض موسم کی منظرکشی نہیں بلکہ باطنی سرمستی اور نسائی شعورِ جمال کا ایک لطیف اظہاریہ ہے، جو قاری کو کیف و سکوت کے حسین کنارے پر لا کھڑا کرتا ہے۔
ادا جعفری کی شعری حسیّت یہاں نازک خیالی، رمز و کنایہ، اور باطن افروزی کے اعلیٰ نمونے کے طور پر جلوہ گر ہے، جہاں ہر لفظ مچلتی خوشبو کی مانند قاری کی روح پر دستک دیتا ہے۔

Read More