سجدے تڑپ رہے ہیں جبینِ نیاز میں سر ہیں کسی کی زلف کا سودا لیے ہوئے
Read MoreTag: ادا جعفری
اداجعفری
دل کی آزردگی بجا لیکن وہ بھی محرومِ یک نگاہ رہے
Read Moreادا جعفری
پھر نگاہوں کو آزما لیجے پھر وفاؤں پہ اشتباہ رہے
Read Moreادا جعفری
نہ ہوتا خانماں تو خانماں برباد کیوں ہوتی اداؔ یہ رنگ لائی آرزوئے آشیاں میری
Read Moreادا جعفری
جس کی باتوں کے فسانے لکھے اس نے تو کچھ نہ کہا تھا شاید
Read Moreادا جعفری
خزینے جاں کے لٹانے والے دلوں میں بسنے کی آس لے کر سنا ہے کچھ لوگ ایسے گزرے جو گھر سے آئے نہ گھر گئے ہیں
Read Moreادا جعفری
ابھی صحیفۂ جاں پر رقم بھی کیا ہوگا ابھی تو یاد بھی بے ساختہ نہیں آئی
Read Moreادا جعفری
یہ شعر ادا جعفری کی لطیف تخیلاتی پرواز اور نسوانی شعری حسیّت کا ایک حسین استعارہ ہے، جس میں جذبۂ محبت، اضطرابِ دروں، اور نگاہ کی جادوگری کو نہایت پراسرار اور باوقار پیرایے میں بیان کیا گیا ہے۔
Read Moreادا جعفری
اس شعر میں ادا جعفری نے ہوائے مست و مدہوش کو اس دلآویز انداز سے مصور کیا ہے گویا فطرت خود ساغر و مینا تھامے، کیف و نشاط کا جام لُٹا رہی ہو۔
یہ صرف بادِ نسیم کی خرامی نہیں، بلکہ روحِ کائنات کی نازنیں سرشاری ہے جو اپنے جلو میں وجدانی مسرّت، جمالی لطافت، اور حیات آفرینی لیے بہہ رہی ہے۔
شاعرہ کی نگاہِ حسّاس نے موسم کے معمولی جھونکوں کو عالمِ وجدان کی شرابِ ناب میں بدل کر پیش کیا ہے، جہاں فطرت کی ہر سانس گویا رقصِ لطافت بن گئی ہو۔
یہ شعر محض موسم کی منظرکشی نہیں بلکہ باطنی سرمستی اور نسائی شعورِ جمال کا ایک لطیف اظہاریہ ہے، جو قاری کو کیف و سکوت کے حسین کنارے پر لا کھڑا کرتا ہے۔
ادا جعفری کی شعری حسیّت یہاں نازک خیالی، رمز و کنایہ، اور باطن افروزی کے اعلیٰ نمونے کے طور پر جلوہ گر ہے، جہاں ہر لفظ مچلتی خوشبو کی مانند قاری کی روح پر دستک دیتا ہے۔
ادا جعفری
وہ آئیں گے تو آئیں گے جنونِ شوق ابھارنے وہ جائیں گے تو جائیں گے خرابیاں کیے ہوئے
Read More