وہ لمحہ
۔۔۔۔۔۔
اُسے تو ہوش ہی نہ تھا
کھلی ہتھیلیوں پہ جو
نصابِ ہجر لکھ گیا
کہ وقت کیسے تھم گیا
Related posts
-
فہمیدہ ریاض ۔۔۔ اب سو جاؤ
اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے... -
حفیظ جالندھری ۔۔۔ ابھی تو میں جوان ہوں
ہَوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنمِ ہزار ہے بہار پر بہار... -
ساقی فاروقی ۔۔۔ سرخ گلاب اور بدر منیر
اے دل! پہلے بھی تنہا تھے، اے دل! ہم تنہا آج بھی ہیں اور ان زخموں...
