فیض احمد فیض ۔۔۔ آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے اس کے بعد آئے جو عذاب آئے بامِ مینا سے ماہتاب اترے دستِ ساقی میں آفتاب آئے ہر رگِ خوں میں پھر چراغاں ہو سامنے پھر وہ بے نقاب آئے عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر تیری مہر و وفا کے باب آئے کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے نہ گئی تیرے غم کی سرداری دل میں یوں روز انقلاب آئے جل اٹھے بزمِ غیر کے در و بام جب بھی ہم خانماں خراب آئے…

Read More

فیض احمد فیض

نسیم تیرے شبستاں سے ہو کے آئی ہے مری سحر میں مہک ہے ترے بدن کی سی

Read More

اشفاق حسین … فیض احمد فیض۔۔ شخصیت اور فن

فیض احمد فیض ۔۔شخصیت اور فن پاکستان کے قیام کے بعد اردو کے جس شاعر کو پاکستان اور بیرون پاکستان سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی وہ فیض احمد فیض ہیں۔ شہرت و مقبولیت کی اسی دولت کے سبب ان کے چاہنے والوں کے ساتھ ساتھ ان سے اختلاف رکھنے والوں کا بھی ہمیشہ سے ایک حلقہ موجود رہا ہے یعنی نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا ؟ انہوں نے جب شاعری کی ابتداء کی تو بیسویں صدی کے سب سے زیادہ قد آور شاعر علامہ…

Read More

فرہاد احمد فگار ۔۔۔ اردو نظم :ایک مضبوط روایت

اردو نظم نگاری کی باقاعدہ ابتدا تو سید ولی محمد نظیر اکبر آبادی سے ہوگئی تھی لیکن یہ صنف انجمن پنجاب کے قیام کے بعد زیادہ ثروت مند ہوئی۔ بیس ویں صدی کے آغاز اور سرسید احمد خان کی تحریکِ علی گڑھ سے قبل نظیر ہی ایک ایسا نام تھا جس نے اردو نظم کی صورت میں اردو ادب میں اضافہ کیا۔ وہ ایک ایسا شاعر تھا جس نے اپنی نظم کے ذریعے وہ الفاظ و تراکیب بھی اردو ادب کے دامن میں بھر دیں جن سے پہلے اردو شاعری…

Read More

فیض احمد فیض ۔۔۔ وہی ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیں

وہی ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیں وہ اک خلش کہ جسے تیرا نام کہتے ہیں تم آ رہے ہو کہ بجتی ہیں میری زنجیریں نہ جانے کیا مرے دیوار و بام کہتے ہیں یہی کنارِ فلک کا سیہ تریں گوشہ یہی ہے مطلعِ ماہِ تمام کہتے ہیں پیو کہ مفت لگا دی ہے خونِ دل کی کشید گراں ہے اب کے مئے لالہ فام کہتے ہیں فقیہِ شہر سے مے کا جواز کیا پوچھیں کہ چاندنی کو بھی حضرت حرام کہتے ہیں نوائے مرغ کو کہتے ہیں اب…

Read More

فیض احمد فیض

کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے

Read More

فیض احمد فیض … وہی ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیں

وہی ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیں وہ اک خلش کہ جسے تیرا نام کہتے ہیں تم آ رہے ہو کہ بجتی ہیں میری زنجیریں نہ جانے کیا مرے دیوار و بام کہتے ہیں یہی کنارِ فلک کا سیہ تریں گوشہ یہی ہے مطلعِ ماہِ تمام کہتے ہیں پیو کہ مفت لگا دی ہے خونِ دل کی کشید گراں ہے اب کے مئے لالہ فام کہتے ہیں فقیہِ شہر سے مے کا جواز کیا پوچھیں کہ چاندنی کو بھی حضرت حرام کہتے ہیں نوائے مرغ کو کہتے ہیں اب…

Read More

اے دل ِ بے تاب ٹھہر ۔۔۔ فیض احمد فیض

اے دلِ  بے تاب! ٹھہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیرگی ہے کہ اُمنڈتی ہی چلی آتی ہے شب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جیسے چل رہی ہے کچھ اس انداز سے نبضِ ہستی دونوں عالم کا نشہ ٹوٹ رہا ہو جیسے رات کا گرم لہو اور بھی بہہ جانے دو یہی تاریکی تو ہے غازہء رُخسارِ سحر صبح ہونے ہی کو ہے، اے دلِ بیتاب! ٹھہر ابھی زنجیر چھنکتی ہے پسِ پردہء ساز مطلق الحکم ہے شیرازہء اسباب ابھی ساغرِ ناب میں آنسو بھی ڈھلک جاتے ہیں لغزشِ پا میں…

Read More

آج بازار میں پابجولاں چلو ۔۔۔۔۔۔ فیض احمد فیض

آج بازار میں پابجولاں چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چشمِ نم، جانِ شوریدہ کافی نہیں تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں آج بازار میں پابجولاں چلو دست اَفشاں چلو، مست و رقصاں چلو خاک برسر چلو، خوں بہ داماں چلو راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو حاکمِ شہر بھی، مجمعِ عام بھی تیرِ الزام بھی، سنگِ دشنام بھی صبحِ ناشاد بھی، روزِ ناکام بھی ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے شہرِ جاناں میں اب باصفا کون ہے دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے رختِ دل باندھ لو، دل فگارو! چلو…

Read More

۔۔۔۔ تمھارے حُسن کے نام ۔۔۔۔۔ فیض احمد فیض

۔۔۔۔ تمھارے حُسن کے نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حُسن کے نام بکھر گیا جو کبھی رنگِ پیرہن سرِ بام نکھر گئی ہے کبھی صبح، دوپہر ، کبھی شام کہیں جو قامتِ زیبا پہ سج گئی ہے قبا چمن میں سرو و صنوبر سنور گئے ہیں تمام بنی بساطِ غزل جب ڈبو لیے دل نے تمہارے سایہء رخسار و لب میں ساغر و جام سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام تمہارے ہات پہ ہے تابشِ حنا جب تک جہاں میں باقی ہے دلداریء عروسِ سخن تمہارا…

Read More