غلام حسین ساجد ۔۔۔ حاصل کسی سے نقدِ حمایت نہ کر سکا

حاصل کسی سے نقدِ حمایت نہ کر سکا میں اپنی سلطنت پہ حکومت نہ کر سکا ہر رنگ میں رقیبِ زرِ نام و ننگ ہوں اک میں ہوں جو کسی سے محبت نہ کر سکا گھلتا رہا ہے میری رگوں میں بھی کوئی زہر لیکن میں اِس دیار سے ہجرت نہ کر سکا پڑ تا نہیں کسی کے بچھڑ نے سے کوئی فرق میں اُس کو سچ بتانے کی زحمت نہ کر سکا آیا جو اُس کا ذکر تو میں گنگ رہ گیا اور آئنے سے اُس کی شکایت نہ…

Read More

بانی ۔۔۔ ​نہ حریفانہ مرے سامنے آ، میں کیا ہوں

غزل​ ​نہ حریفانہ مرے سامنے آ، میں کیا ہوں تیرا ہی جھونکا ہوں اے تیز ہوا ! میں کیا ہوں رقص یک قطرۂ خوں ، آپ کشش، آپ جنوں اے کہ صد تشنگیِ حرف و صدا !میں کیا ہوں ایک ٹہنی کا یہاں اپنا مقدر کیسا پیڑ کا پیڑ ہی گرتا ہے جُدا، میں کیا ہوں اک بکھرتی ہوئی ترتیبِ بدن ہو تم بھی راکھ ہوتے ہوئے منظر کے سوا میں کیا ہوں تو بھی زنجیر بہ زنجیر بڑ ھا ہے مری سمت ساتھ میرے بھی روایت ہے ، نیا…

Read More

سید آلِ احمد ۔۔۔ نگارِ غم تری آہٹ پہ جب سے جاگا ہوں

غزل نگارِ غم تری آہٹ پہ جب سے جاگا ہوں میں خواب خواب بھنور آئنوں کو تکتا ہوں نہ کوئی رنگِ توقع‘ نہ نقشِ پائندہ کسے بتاؤں کہ کن خواہشوں کا ڈھانچہ ہوں کسے دکھاؤں وہ آنکھیں جو جیت بھی نہ سکا کسے بتاؤں کہ کن آنسوؤں کا سپنا ہوں نہ تازگی ہی بدن میں ، نہ پُرسکون تھکن میں شاخِ عمر کا وہ زرد و سبز پتا ہوں جہاں یقین کے تلو وں میں آبلے پڑ جائیں میں حادثات کی ان گھاٹیوں میں اُترا ہوں وہ نغمگی جسے سازِ…

Read More

حسن عباس رضا

آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیےلیکن کبھی کبھار تو گھر جانا چاہیے

Read More

یزدانی جالندھری

ملّاح سرفگندہ، مسافر تھکے ہوئے اُتریں گے کیسے پار، ہوا سامنے کی ہے

Read More

محسن اسرار

پوچھا جو میں نے میرِ شبستاں کسے بتاؤں آواز ہر طرف سے ہی آئی مجھے! مجھے!

Read More

شاہین عباس

تم نے کیا بات کاٹ دی تھی مری گھر میں آتا رہا گلی کا شور

Read More

خورشید رضوی

پھول کھلنے کی کوشش سے اکتا گئے آنکھ بھر کر انھیں دیکھتا کون ہے

Read More

عطاالحسن

چاہے مکین گھر کو بُرا جاننے لگے دیوار کیسے در کو بُرا جاننے لگے

Read More

صابر ظفر

کچھ لوگ ادھر سے آ رہے ہیں کچھ روشنی ہو رہی ہے اس پار

Read More