جانا خدا کو جس نے ، اسی کا خدا ہوا میں تجھ کو جانتا تھا ، بتا میرا کیا ہوا
Read MoreTag: Sabir Zafar
صابر ظفر
ہزار سانحے پردیس میں گزرتے ہیں جو ہو سکے تو ذرا ہم سے رابطہ رکھنا
Read Moreصابر ظفر
جو دھوپ سے آشنا رہے ہیں وہ سائے مجھے بلا رہے ہیں
Read Moreصابر ظفر
کچھ لوگ ادھر سے آ رہے ہیں کچھ روشنی ہو رہی ہے اس پار
Read Moreصابر ظفر
تجھ سے غافل کبھی رہیں گے نہیںیہ جو صابر ظفر ہیں گرد و نواح
Read Moreشاہد ماکلی… آتشِ بیگانگی( صابر ظفر)
صابر ظفر صاحب کا تخلیقی وفور لائقِ رشک ہے ۔ لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی زندگی اور جدید سماج کی صورتِ حال کی تمثال آفرینی کے نمونے ان کے ہاں کثرت سے ملتے ہیں ۔ پھر یہ کہ جدید سے جدید مثبت شعری رجحانات سے وابستگی نے انھیں ہمیشہ تازہ دم رکھا ہے ۔ وہ معاصر ادبی، سماجی، سیاسی اور تخلیقی نیرنگیوں سے رس کشید کر کے اپنی غزل میں سموئے جاتے ہیں اور اپنی تازہ دمی اور توانائی کو بحال رکھ کر تخلیقی منہاج پر آگے سے آگے بڑھے…
Read Moreصابر ظفر… تھام کر ہاتھ ایک سائے کا
تھام کر ہاتھ ایک ساے کاہو گیا ہوں کسی پراے کا مجھ سے خالی کرا لیا گیا ہےہر نفس تھا مکاں کراے کا حسن اور عشق احترام کریںکاش اک دوسرے کی راے کا پار کر دیکھا پاٹ میں نے بھیعشق کی ایک آبناے کا دشت میں رات ہو گئ ہے ظفرپوچھتا ہوں پتا سراے کا
Read Moreصابر ظفر ۔۔۔ اک عمر جو ہم نے خون تھوکا
اک عمر جو ہم نے خون تھوکا دل نرم نہیں ہوا کسو کا جب موت کی منتظر ہوں سانسیں دورانیہ ہے وہ کرفیو کا بارود ہے اس قدر سرِ خاک امکان ہی چھن گیا نمو کا بہتر ہے کہ بے طلب ہی جی لو یہ عہد نہیں ہے آرزو کا ہستی ہے ہماری، یاد جس کی وہ ہم کو بھلا چکا کبھو کا حد سے جو گزر رہے ہیں ہم تم حاصل ہے کوئی تو جستجو کا اب تک ہے وہی زبان بندی عالم ہے ہنوز کوئی ہُو کا ڈوبے…
Read More