شاہد ماکلی ۔۔۔ ہمیشگی سے تعارف کرایا جا چکا ہے

ہمیشگی سے تعارف کرایا جا چکا ہے ہَوا پہ نقش بنا کر دکھایا جا چکا ہے بَھرا نہ تھا ابھی پہلے قدم کا خمیازہ کہ اس سے اگلا قدم بھی اٹھایا جا چکا ہے درخت اوّلیں انساں کی راہ دیکھتے ہیں زمیں کو رہنے کے قابل بنایا جا چکا ہے نتیجہ سامنے آ جائے گا کوئی دن میں نئی کہانی کا خاکہ بنایا جا چکا ہے نشستیں خالی کریں ناظرینِ نَو کے لیے کہ آپ کو تو تماشا دکھایا جا چکا ہے سمجھ میں آئیں گی تحقیق سے کئی باتیں…

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔ دو غزلہ ۔۔۔ سَو راستے ہیں پیشِ نظر کائنات میں

سَو راستے ہیں پیشِ نظر کائنات میں جائے تو کوئی جائے کدھر کائنات میں یہ شش جہات میں مِری پہلی اڑان ہے کھولے ہیں پہلی مرتبہ پر کائنات میں ہے کائناتی گرد اڑائی ہوئی مری اتنا رہا ہوں گرمِ سفر کائنات میں تیری نگہ سے ہوتی ہوئی دل میں آئی تھی دل سے نکل کے پھیلی خبر کائنات میں سیّارگی ستارگی سے فیض یاب ہے روشن ہے تجھ سے میری سحر کائنات میں جس کی جڑیں زمین میں، شاخیں فلک میں ہیں غم ہے وہ ارتقائی شجر کائنات میں بے…

Read More

فہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔ خدا نہ کردہ کہ ابر و ہوا میں ٹھن جائے

خدا نہ کردہ کہ ابر و ہوا میں ٹھن جائے زمیں زمیں نہ رہے ، ریگ زار بن جائے اسے تو چودہ طبق سے گزرنا ہوتا ہے کرن کے ساتھ کہاں تک کوئی بدن جائے اب ایک رُت پہ ثمر آئے اور موسم کا اور اک چمن کی مہک دوسرے چمن جائے میں چٹکیوں میں اُڑاؤں گا پھر سفوف اس کا ذرا یہ گاڑھی اُداسی قلم سے چھن جائے یونہی مہکتی فضاؤں میں سانس لیتا رہوں ہواؤں سے نہ تری بوئے پیرہن جائے یہ پیڑ بیج تھا ، یہ بحر…

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔ یہیں گرد و نواح میں گونجتی ہے، مرے قرب و جوار سے پھوٹتی ہے

یہیں گرد و نواح میں گونجتی ہے، مرے قرب و جوار سے پھوٹتی ہے کوئی دُور دراز کی چاپ نہیں، جو سکوت کے پار سے پھوٹتی ہے یہ جہانِ مجاز ہے عکس نُما، کسی اور جہاں کی حقیقتوں کا یہاں چاند اُبھرتا ہے پانیوں سے، دھنک آئنہ زار سے پھوٹتی ہے وہاں ساری شگُفت تضاد سے ہے، جہاں حیرتیں اوڑھ کے گھومتا ہوں کہیں پھول چٹان سے پھوٹتا ہے، کہیں آگ چنار سے پھوٹتی ہے نہ شمال و جنوب میں دیکھتا ہوں، نہ طلوع و غروب میں دیکھتا ہوں میں…

Read More

نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ شاہد ماکلی

گریہ مرا وُضو ہے ، حضوری نماز ہے اب میں ہوں اور تصورِ شہرِ حجاز ہے باطن میں لو ہے ایک سراجِ منیر کی پتھر سا دل اِسی کی تپش سے گداز ہے بگڑے ہوئے اُمور سنور جائیں گے مرے اک دستِ مہربان مرا کارساز ہے وابستگی حریصُ علیکم سے ہے مری باطن میں اور طرح کا اک حرص و آز ہے اللہ مجھ کو عشق میں ثابت قدم رکھے اس راہ میں ہزار نشیب و فراز ہے

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔ نمائشوں کے نمونے مصورانہ ہیں

نمائشوں کے نمونے مصورانہ ہیں یہ کائناتیں خدا کا نگار خانہ ہیں کوئی کنارہ  نہیں حیرتوں کی وسعت کا عجائبات کی دنیائیں بیکرانہ ہیں تمھارے خواب کے موتی تو یک گرہ ہوں گے ہمارے خواب کی مالائیں دانہ دانہ ہیں بہت سا وقت خدا کے بغیر کٹتا ہے بہت سے شام و سحر ہیں جو بے زمانہ ہیں گزرتا جاتا ہے شاہد ہمارا مستقبل  ابد سے ماضی کی جانب کہیں روانہ ہیں

Read More