گر ہے ہمت ظلم کے بازار پر اُنگلی اُٹھا جو ڈبوئے خوں میں اُس دَستار پر اُنگلی اُٹھا شب کے رُخ پر روشنی کے ہاتھ سے تحریر لکھ حوصلہ کرکے ذرا دو چار پر اُنگلی اُٹھا پہلے اپنی گفتگو سے لفظ پتھریلے نکال پھر کسی کے لہجہ و گفتار پر اُنگلی اُٹھا راکھ کر دیتی ہیں یہ بارود کی بیساکھیاں اِن کے شعلوں میں چُھپے اَسرار پر اُنگلی اُٹھا ذہن میں رکھ لے یزیدِ ظُلم کے انجام کو پھر غلامِ حیدرِؓ کرار پر اُنگلی اُٹھا کیوں جلانا چاہتا ہے جسم…
Read MoreTag: عقیل رحمانی
نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ عقیل رحمانی
لے کے آئی صبا مدینے سے نور کا اک دیا مدینے سے مہک آئی ہے پھر مدینے کی کوئی آیا ہے کیا مدینے سے؟ چادرِ گمرہی میں لپٹا ہوا ہو گیا پارسا مدینے سے جان آنکھوں میں سب سمٹ آئی جب ہوئے ہم جُدا مدینے سے ہو رہی ہے جو نور کی بارش آئی ہے یہ گھٹا مدینے سے مل گئے فاطمہؓ ، حسینؓ و حسنؓ اور مشکل کشا مدینے سے پہنچی بابِ قبول تک فوراً جو بھی مانگی دعا مدینے سے جیسے گل سے نکلتی ہو خوشبو یوں ہوئے…
Read Moreعقیل رحمانی … میں بچوں کو اُجالے دے رہا ہوں
میں بچوں کو اُجالے دے رہا ہوں کتابوں کے کھلونے دے رہا ہوں بڑھاتا جا رہا ہوں ان کی قیمت جن آئینوں کو چہرے دے رہا ہوں جہاں ویرانیوں کا ہے بسیرا انھی آنکھوں کو سبزے دے رہا ہوں مرے مرنے کی جن کو ہے تمنا انھیں سانسوں کے تحفے دے رہا ہوں ہر اک تتلی ہے رقصیدہ چمن میں اسے خوشبو کے جھمکے دے رہا ہوں یقیناً ان سے نفرت ہی ملے گی جنھیں الفت کے قرضے دے رہا ہوں پریشاں ہیں جو راتوں کے مسافر عقیل ان کو…
Read Moreفہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023
عقیل رحمانی ۔۔۔ جنت سے ایک پل میں نکالا گیا مجھے
عقیل رحمانی ۔۔۔ عمر ساری مجھے کانٹوں کی قبا لگتی ہے
عمر ساری مجھے کانٹوں کی قبا لگتی ہے زندگی لغزشِ آدم کی سزا لگتی ہے مرتے دم تک نہیں بھولی تیرے آنچل کی مہک ماں ترے دودھ کی تاثیر جُدا لگتی ہے آم کے پیڑوں پہ بُور آئے تو پردیس میں بھی ڈھونڈتی پھر مجھے کوئل کی صدا لگتی ہے بقچیاں نیکی کی چوراہے پہ کھل جاتی ہیں جب بھی کردار کو شہرت کی وبا لگتی ہے روشنی دیتا ہے پھر میرے بجھے دل کا چراغ جب مجھے کوچۂ جاناں کی ہوا لگتی ہے چھوڑ جاتے ہیں جو گھر ان…
Read Moreعقیل رحمانی ۔۔۔ مرثیہ
کرنوں کو جیسے ڈھانپ دے بڑھ کر شبِ سیاہ سورج کے منہ پہ پڑ گئی یوں موت کی ردا شعلوں کا روپ دھار کے چلنے لگی ہوا صحرا کی ریگ بن گئی دامن تنور کا جھونکے ہوا سے آنے لگے خوں کی باس کے کوثر کے وارثوں پہ بھی پہرے تھے پیاس کے حُرؓ اطلس و حریر کے رنگِ جمیل سے سمجھا بلا کی ریگ کو بہتر شنیل سے اک سانس کی بھی بھیک نہ مانگی بخیل سے ٹکرا گیا ہے موت کی اونچی فصیل سے دہلیزِ غم کا تیرے…
Read More