لے کے آئی صبا مدینے سے نور کا اک دیا مدینے سے مہک آئی ہے پھر مدینے کی کوئی آیا ہے کیا مدینے سے؟ چادرِ گمرہی میں لپٹا ہوا ہو گیا پارسا مدینے سے جان آنکھوں میں سب سمٹ آئی جب ہوئے ہم جُدا مدینے سے ہو رہی ہے جو نور کی بارش آئی ہے یہ گھٹا مدینے سے مل گئے فاطمہؓ ، حسینؓ و حسنؓ اور مشکل کشا مدینے سے پہنچی بابِ قبول تک فوراً جو بھی مانگی دعا مدینے سے جیسے گل سے نکلتی ہو خوشبو یوں ہوئے…
Read MoreTag: عقیل رحمانی کی شاعری
عقیل رحمانی … میں بچوں کو اُجالے دے رہا ہوں
میں بچوں کو اُجالے دے رہا ہوں کتابوں کے کھلونے دے رہا ہوں بڑھاتا جا رہا ہوں ان کی قیمت جن آئینوں کو چہرے دے رہا ہوں جہاں ویرانیوں کا ہے بسیرا انھی آنکھوں کو سبزے دے رہا ہوں مرے مرنے کی جن کو ہے تمنا انھیں سانسوں کے تحفے دے رہا ہوں ہر اک تتلی ہے رقصیدہ چمن میں اسے خوشبو کے جھمکے دے رہا ہوں یقیناً ان سے نفرت ہی ملے گی جنھیں الفت کے قرضے دے رہا ہوں پریشاں ہیں جو راتوں کے مسافر عقیل ان کو…
Read More