نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ طالب انصاری

جب بھی دکھائی دے گئے آثار نعت کے تخلیق کیا سے کیا ہوئے شہکار نعت کے تعمیر ِ قصر ِ دل کرو اس اہتمام سے چھت ہو درود کی ، در و دیوار نعت کے باغ ِ زبان ِ شعر و ادب کی ہیں رونقیں سایا بکھیرتے ہوئے اشجار نعت کے دل کی منڈیر پر انہیں رکھا ہے مستقل مجھ کو ملے چراغ جو دو چار نعت کے لایا ہوں سامنے میں عقیدت کے زور پر ہر لفظ میں چھپے ہوئے اَسرار نعت کے مجھ کو بلا نہ گنبد ِ…

Read More

طالب انصاری ۔۔۔ ایسا نہیں کہ اس کی محبت نہیں ملی

ایسا نہیں کہ اس کی محبت نہیں ملی جی کا ملال ، روح کی راحت نہیں ملی صد شکر غم نے رکھ لی مری زندگی کی لاج خوش ہو کے جی لوں ایسی سہولت نہیں ملی میری بھی آرزو تھی کہ دل کھول کے ہنسوں لیکن ترے غموں سے اجازت نہیں ملی رخسارِ یار پر نہیں تمثیلِ گل روا پھولوں کو اس قدر تو صباحت نہیں ملی برسوں کے بعد دیکھا جو سوئے دیارِ دل کوئی وہاں پرانی عمارت نہیں ملی ہر رات مجھ کو لوٹ کے آنا پڑا ہے…

Read More

طالب انصاری ۔۔۔ پسند کرنا تھا جس کو کہاں پسند کیا

پسند کرنا تھا جس کو کہاں پسند کیا چراغ چھوڑ کے ہم نے دھواں پسند کیا تمھارے واسطے آسانیاں فراہم کیں اور اپنے واسطے ہر امتحاں پسند کیا میں اپنی بات سناتا تھا اور زمانے نے تمھارا ذکر سرِ داستاں پسند کیا میں اپنے بارے میں کچھ ایسا خوش گمان نہیں زہے نصیب اگر تم نے ہاں پسند کیا زمین سے بھی تعلق بحال رکھا ہے یہی نہیں کہ فقط آسماں پسند کیا خمارِ دشت نوردی سے بے خبر ہی رہا وہ جس نے اپنے لیے سائباں پسند کیا ہمارا…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ طالب انصاری

تو بیاں اوصاف ہوں گے آپ کے تفصیل سے ساتھ دینے کو کہوں گا میں اگر جبریل سے اور تو زادِ رہِ شہرِ نبی کچھ بھی نہ تھا میں نے بس موتی نکالے آنکھ کی زنبیل سے اک شبِ خوش بخت میں دیدارِ پیغمبر ہوا اور مکمل ہو گیا میں خواب کی تکمیل سے اس جمالِ نور پرور کا بیاں ممکن نہیں یہ بتایا جا نہیں سکتا کسی تمثیل سے ہوں طوافِ گوشۂ غارِ حرا میں منہمک خصلتِ پروانہ سیکھی ہے اسی قندیل سے اور سارے کام سرعت سے کیا…

Read More

فہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023

Read More

طالب انصاری ۔۔۔ کتنی آسانی سے کہسار اُٹھا لیتا ہوں

کتنی آسانی سے کہسار اُٹھا لیتا ہوں میں ترے عشق کا آزار اُٹھا لیتا ہوں ہار جاتا ہے مرے ظرف سے سیلِ گریہ میں تو پلکوں پہ یہ انبار اُٹھا لیتا ہوں چھوڑ دیتی ہے جسے عشق سمجھ کر دنیا میں وہی سنگِ گراں بار اُٹھا لیتا ہوں موسمِ گُل کا میں رستا نہیں دیکھا کرتا عجلتِ شوق میں بس خار اُٹھا لیتا ہوں مجھ کو پیڑوں سے گزارش نہیں کرنا پڑتی اپنے حصے کے میں اثمار اٹھا لیتا ہوں اک جھلک بھی جو میسر نہیں ہوتی طالب سر پہ…

Read More