جب بھی دکھائی دے گئے آثار نعت کے
تخلیق کیا سے کیا ہوئے شہکار نعت کے
تعمیر ِ قصر ِ دل کرو اس اہتمام سے
چھت ہو درود کی ، در و دیوار نعت کے
باغ ِ زبان ِ شعر و ادب کی ہیں رونقیں
سایا بکھیرتے ہوئے اشجار نعت کے
دل کی منڈیر پر انہیں رکھا ہے مستقل
مجھ کو ملے چراغ جو دو چار نعت کے
لایا ہوں سامنے میں عقیدت کے زور پر
ہر لفظ میں چھپے ہوئے اَسرار نعت کے
مجھ کو بلا نہ گنبد ِ اصناف ِ دیگراں
اب میرے چار سمت ہیں مینار نعت کے
دنیا فدائے دولت ِ دنیائے بے ثبات
میرا اثاثہ ان گنت اشعار نعت کے
روشن ہوا ہے دل تو فروزاں نظر ہوئی
یوں جسم و جاں میں گھُل گئے انوار نعت کے
