نسیمِ سحر ۔۔۔ کر دیا کیوں آئنہ گر کے سپُرد؟

کر دیا کیوں آئنہ گر کے سپُرد؟
آئنہ کرنا تھا پتھّر کے سپُرد!

پیاس ہم سہتے رہے کچھ سوچ کر
کر کے اِک دریا سمندر کے سپُرد

کرب جتنا ہے، مری قسمت میں ہے
راحتیں سب اُس کے پیکر کے سپُرد

ساحلوں سے اب ہمیں لینا ہے کیا؟
کشتیاں اپنی سمندر کے سپُرد!

شِدّتِ شوقِ نظارہ کے سبب
آنکھ ہی کر دی ہے منظر کے سپُرد!

ہم ہیں زندہ کس زمانے میں نسیمؔ
بیل پھولوں کی ہے کیکر کے سپُرد!

Related posts

Leave a Comment