گلوبل ورلڈ کے کمبل میں ۔۔۔۔ کوئی تو لپیٹ رہا ہے گلوبل ورلڈ کا کمبل کہیں سے نئے زمانے فضا میں اجنبی سی آہٹ ہمارے دل،ذہنوں میں خدشے گھولتی ہے ہم جو روایت اور اقدار سے جڑے معمولی ذرات سے بھی کمتر اپنے ہونے کی بے سود گواہی سے منحرف نجانے کتنے تجربات سینوں میں چھپائے مسلسل رائیگانی کے جلو میں چل رہے ہیں ابھی انسان بننے سے کوسوں دُور ہیں یہ دُنیا ہر لمحہ تبدیل ہونے کی کہانی ہے یہاں رنگوں کی بارش پھول موسم محبت کی ڈائری… سب…
Read MoreTag: امجد بابر
امجد بابر ۔۔۔ فروٹ کیک
تُم کاٹو گے میرے راستے کو تمھارے پاس کالی بلی بھی نہیں کہاں سے نحوست کے آکٹوپس روایات کی زنجیریں لے آئے ہو میں صدیوں سے آنسوؤں کے سمندر پہ بہہ رہی ہوں مجھے خوابوں کی سبز ڈولی میں بٹھا کر فروخت کیا جاتا ہے کبھی گندے ہاتھوں سے میرے حْسن کی توہین ہوتی ہے کبھی بانجھ مرد کی بے ثمر ساعتوں سے سمجھوتہ کرتی ہوں کبھی اکلاپے سے لپٹ کر جاگتی ہوں کبھی شوہر کی غیر موجودگی میں رات کے دروازے پہ کھڑے بہکے سایوں کی دستک سنتی ہوں…
Read Moreفہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023
امجد بابر ۔۔۔ Kick Back
امجد بابر ۔۔۔ زندگی دل کو میسر ہے خرابے میں بھی
امجد بابر ۔۔۔ الفاظ کے منتر (نثری نظم)
الفاظ کے منتر ………….. دیکھتے دیکھتے بستر پر سانپ بن جاتا ہے درخت پر بیٹھا طوطا غائب ہو جاتا ہے خواب میں لڑکی کے بال جل جاتے ہیں آسمان سے پتھروں کی بارش ہونے لگتی ہے زمین وجد میں گنگنانے لگتی ہے دیکھتے دیکھتے ہاتھ لمبے ہو جاتے ہیں آنکھیں نکتوں میں دھنس جاتی ہیں لفظ رنگوں کے برش سے چپک جاتے ہیں گھر دیواروں کے تکلف سے بھر جاتے ہیں دیکھتے دیکھتے خواب کے معنی نکل آتے ہیں جگنوئوں سے اندھیرے ٹپکتے ہیں دریا سے ریت کی بدبو آتی…
Read More