امجد بابر ۔۔۔ گلوبل ورلڈ کے کمبل میں

گلوبل ورلڈ کے کمبل میں ۔۔۔۔ کوئی تو لپیٹ رہا ہے گلوبل ورلڈ کا کمبل کہیں سے نئے زمانے فضا میں اجنبی سی آہٹ ہمارے دل،ذہنوں میں خدشے گھولتی ہے ہم جو روایت اور اقدار سے جڑے معمولی ذرات سے بھی کمتر اپنے ہونے کی بے سود گواہی سے منحرف نجانے کتنے تجربات سینوں میں چھپائے مسلسل رائیگانی کے جلو میں چل رہے ہیں ابھی انسان بننے سے کوسوں دُور ہیں یہ دُنیا ہر لمحہ تبدیل ہونے کی کہانی ہے یہاں رنگوں کی بارش پھول موسم محبت کی ڈائری… سب…

Read More

امجد بابر ۔۔۔ دل کی کرسی خالی ہے

دل کی کرسی خالی ہے اُن آنکھوں میں لالی ہے الہ یرا شکریہ تو نے مشکل ٹالی ہے غالب سے رشتہ گہرا من کو بائے حالی ہے گوری ہے رنگت اُس کی اور کانوں میں بالی ہے تیری خواہش ہے کتا میں نے بلی پالی ہے پھولوں سے خوش بو آئے کتنا اچھا مالی ہے اُس کے چہرے پر لکھا لڑکی قسمت والی ہے

Read More