گلوبل ورلڈ کے کمبل میں
۔۔۔۔
کوئی تو
لپیٹ رہا ہے
گلوبل ورلڈ کا کمبل
کہیں سے
نئے زمانے
فضا میں
اجنبی سی آہٹ
ہمارے دل،ذہنوں میں خدشے گھولتی ہے
ہم جو
روایت اور اقدار سے جڑے
معمولی ذرات سے بھی کمتر
اپنے ہونے کی بے سود گواہی سے منحرف
نجانے کتنے تجربات
سینوں میں چھپائے
مسلسل رائیگانی کے جلو میں چل رہے ہیں
ابھی انسان بننے سے کوسوں دُور ہیں
یہ دُنیا
ہر لمحہ تبدیل ہونے کی کہانی ہے
یہاں رنگوں کی بارش
پھول موسم
محبت کی ڈائری… سب بوسیدہ ہے
یہاں پر لوگ اوراُن کی ضرورت کا فسانہ ہے
تبھی تو مختلف
حیرت کدے
ہمیں ایجادات کے بلیک ہول میں گمراہ کرتے ہیں
انسانوں نے بازار سے زیادہ
اور قیمت سے آگے کچھ نہیں دیکھا
ہر کسی کا اپنا خدا ہے
جیسے ہر شخص کا خود ساختہ جنوں
تخیل کے موم سے جڑا
صحرائی ریت پہ عظمت کے نشاں ڈھونڈتا ہے
