ثمینہ سید ۔۔۔ یہ تو بس وقت گزاری ہے محبت کیسی

یہ تو بس وقت گزاری ہے محبت کیسی
خواب میں خواب دکھانے کی ضرورت کیسی

تم کو معلوم ہے کس سمت ہوا کا رخ ہے
پڑ گئی خاک اُڑانے کی ضرورت کیسی

رات دن ایک کیے میں نے اسی مقصد میں
اب مجھے دیکھ کے ہے آپ کو حیرت کیسی

عشق ورثے میں کہاں ملتا ہے معلوم ہے یہ
آپ کا حق ہے … محبت میں اجازت کیسی

مدتوں بعد سنورتے ہوئے دیکھا … تو کہا
اف… روایت سے نکل آتی ہے جدت کیسی

شعر کا وزن تو قائم ہے فقط مجھ سے ہی
میرے ہوتے ہوئے مصرعے میں اضافت کیسی

اِک تماشا سرِ بازار لگا رہتا ہے
اتنا معیار گرانے کی ضرورت کیسی
میں ہُوں خاموش تو بزدل وہ سمجھنے لگا ہے
دیکھئے ہو گئی اس شخص کی جرأت کیسی

جھوٹ سننے کے وہ عادی ہیں ثمینہ سید
میں نے اب سچ جو کہا ہے تو شکایت کیسی

Related posts

Leave a Comment