نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ اقبال سروبہ

ہے باعثِ سکون اطاعت رسولؐ کی دل پر ہے میرے نقش محبت رسولؐ کی آوازِ حق بلائے تو قربانیاں بھی دو کہتی ہے بار بار یہ الفت رسولؐ کی ہیں مطمئن جو کفر کے باطل نظام سے اُن کو کہاں نصیب شفاعت رسول کی اس کے سوا نہیں ہے کوئی ظلم کا علاج نافذ کرو جہاں میں شریعت رسولؐ کی فیضِ نبی سے خاک کے ذرے تھے آفتاب اک شانِ امتیاز تھی سنگت رسولؐ کی روشن رہے گا محسنِ انسانیت کا نام اول سے تا ابد ہے رسالت رسولؐ کی…

Read More

اقبال سروبہ ۔۔۔ جو بھی پتھر سے جا ملا ہو گا

جو بھی پتھر سے جا ملا ہو گا زخم گہرا اُسے لگا ہو گا لب کشائی کا شوق تھا جس کو اُس نے خاموش کر دیا ہو گا اِس لیے بار بار چونکتا ہے میرا دشمن نیا نیا ہو گا سب کی آسان زندگی ہو گی کون میری طرح جیا ہو گا جانے والے نے مُڑ کے دیکھا مجھے کچھ نہ کچھ وہ بھی سوچتا ہو گا میں بھی گر جاؤں گا تھکاوٹ سے وقت بھی ہوش کھو چکا ہو گا جس نے اقبال تجھ کو چھوڑ دیا کب کسی…

Read More

فہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023

Read More

اقبال سروبہ ۔۔۔ سلام یا حسین

نام میرے لب پہ آیا جس گھڑی شبیر کا گوشہ گوشہ ہو گیا روشن دلِ دلگیر کا گل ہوئیں باطل کی شمعیں جل اٹھی قندیلِ حق یوں ہوا شہرہ جہاں میں نعرہ تکبیر کا یوں بہتر تن سروں پر باندھ کر نکلے کفن پانی پانی ہو گیا خونِ جگر شمشیر کا اے حسین ابنِ علی تیری شجاعت کو سلام تیرا خوں غازہ بنا اسلام کی توقیر کا آج بھی نادم ہے زنداں عابدِ بیمار سے حلقہ حلقہ رو رہا ہے آج بھی زنجیر کا جب سے رنگیں ہو گئی آلِ…

Read More

اقبال سروبہ ۔۔۔ ملی نغمہ

مرے وطن کے عظیم لوگو مرے وطن کا خیال رکھنا اسی کے دم سے ہی رونقیں ہیں یہ رونقیں تم بحال رکھنا تمھاری آنکھیں رہیں سلامت کوئی بھی منظر بکھر نہ جائے کسی بھی لمحے وطن کی مورت تمھارے دل سے اتر نہ جائے جو ہو سکے تو ہمیشہ قائم وطن کا حسن و جمال رکھنا وطن کی جانب کوئی بھی میلی نظر سے دیکھے قدم بڑھانا وہ پھر سے ہمت نہ کر سکے گا اسے تم ایسا سبق سکھانا تمہیں جو سونپی گئی امانت اسے سدا تم سنبھال رکھنا…

Read More

اقبال سروبہ ۔۔۔ کسی کے ہونٹوں پہ پیاس دیکھی کسی کے ہاتھوں میں جام دیکھا

کسی کے ہونٹوں پہ پیاس دیکھی کسی کے ہاتھوں میں جام دیکھا بس اپنی دھرتی پہ ہم نے برسوں یہی فسردہ نظام دیکھا محبتوں کا رواج دیکھا نہ چاہتوں کا سماج دیکھا خلوص و مہر و وفا کا پیکر کوئی نہ ہم نے امام دیکھا یہاں امیر و وزیر دیکھے سبھی صغیر و کبیر دیکھے اَنا کا جو بھی اسیر دیکھا وہ خواہشوں کا غلام دیکھا بغیر محنت کے پاؤ عزت کہ یہ اصولِ جہاں نہیں ہے یہاں تو جس نے بھی کی ریاضیت اُسی کا اُونچا مقام دیکھا وہ…

Read More

اقبال سروبہ ۔۔۔ غزلیں

قربتوں کے دلربا گزرے زمانے یاد کر نت نئے ملنے ملانے کے بہانے یاد کر ہاں وہی مستی میں ڈوبے دل نوا شام و سحر ہاں وہی جام و سبو وہ بادہ خانے یاد کر بچپنا مٹی کی خوشبو بارشوں کی شوخیاں خواب، جگنو اور گڑیوں کے فسانے یاد کر گاؤں کے اک بوڑھے برگد کی گھنیری چھاؤں میں مل کے جو گاتے تھے وہ نغمے پرانے یاد کر یاد تو ہو گی سمندر کی کہانی آج بھی نام لکھ کر بر لبِ ساحل مٹانے یاد کر قرب کے لمحات…

Read More