محمد انیس انصاری ۔۔۔ دو غزلیں

میں حرف حرف ہوا ہوں گریز پائی سے تجھے کمال میسّر ہے آشنائی سے میں کب تلک یونہی لڑتار ہوں حقوق کی جنگ شکست کھائے چلا جائوں نارسائی سے رقابتوں کا یہ دیرینہ کھیل ختم بھی ہو کہ تھک گیا ہوں میں اس پنجہ آزمائی سے سمیٹ لوں میں ابھی ذات کی توانائی پھر ایک حشر اٹھے گا مری اکائی سے انیس! جھیل رہا ہوں مسافتوں کے عذاب کہ منزلیں ہیں عبارت شکستہ پائی سے ۔۔۔۔ پسِ مژگاں اذیّت سہہ رہا ہے سمندر قطرہ قطرہ بہہ رہا ہے دریچے میں…

Read More

محمد انیس انصاری ۔۔۔ جِس سے ہر شخص ہے بیزار ، بدل ڈالیں گے

جِس سے ہر شخص ہے بیزار ، بدل ڈالیں گے ہم سیاست کا یہ معیار بدل ڈالیں گے جس نے لُوٹا ہے مرے دیس کی مٹّی کا سہاگ اِس کہانی سے وہ کردار بدل ڈالیں گے تو نے سینچا ہے جسے اپنے لہو سے برسوں یہ تو پل بھر میں وہ گلزار بدل ڈالیں گے میں نہ کہتا تھا کہ یہ لوگ تو سوداگر ہیں ترے اجداد کی اقدار بدل ڈالیں گے سُن اے نیلام گھروں تک ہمیں لانے والے! ہم ترا مصر کا بازار بدل ڈالیں گے ہم نے…

Read More

عقیدت ۔۔۔ محمد انیس انصاری

شبِ سیہ میں تبسم کیا حضورؐ نے، گر تو رنگ و نور سے یک دم فروزاں ہو گیا گھر حضورؐ آئے تو مکّہ کی ساری مائوں میں خدا نے جشنِ ولادت منایا ، بانٹے پِسر کسی کا نام نہ تھا کائنات میں ’’احمدؐ‘‘ نہ اور کوئی ’’محمدؐ‘‘ ہوا تھا دھرتی پر تمھارا نام بھی نُقطوں سے ماورا رکھّا تمھیں بھی عیب سے اللہ نے رکھّا بالاتر پُکارے جائیں گے آدمؑ ، ’’ابو محمدؐ‘‘ سے یہ کنّیت نہ کسی کو ملی سرِ محشر فرشتے آپؐ کو جُھولا جُھلایا کرتے تھے حلیمہ…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ محمد انیس انصاری

آقاؐ کی محبت کا اثر ختم نہ ہو گا مکّہ سے مدینے کا سفر ختم نہ ہو گا مخلوق سدا جھولیاں پھیلائے رہے گی اس پیڑ کی شاخوں پہ ثمر ختم نہ ہو گا مِلتی رہیں گی نِت نئی لفظوں کو قبائیں سرمایۂ اربابِ نظر ختم نہ ہو گا ہر نعت میں گونجے گی ترے عشق کی آواز حسّانؓ ترا حسنِ ہنر ختم نہ ہو گا مت پوچھیئے اُس شہرِ مدارات کا احوال لنگر ہے ، کہ جو شام و سحر ختم نہ ہو گا جُز حرفِ شکیبائی انیسِ دل…

Read More

محمد انیس انصاری ۔۔۔ دو غزلیں

جب برسے گا بادل ، تھوڑی دیر کے بعد بہہ جائے گا کاجل ، تھوڑی دیر کے بعد یادوں نے پھر چھیڑ دیا ہے راگ مَلھار رقص کرے گا پاگل ، تھوڑی دیر کے بعد مہکیں گے رُخسار و لب و عارض کے گلاب جب اُٹّھے گا آنچل تھوڑی دیر کے بعد لمبی نیند نے آخر پیاس بجھا ڈالی کوئی لایا چھاگل ، تھوڑی دیر کے بعد ڈوب نہ جائے رات کا سورج، جانِ انیس چلا نہ جائے سانول ، تھوڑی دیر کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپیل کا بھی حق نہیں…

Read More

محمد انیس انصاری ۔۔۔ آگ جو مجھ میں بھڑکتی تھی ، بجھا دی گئی کیا؟

آگ جو مجھ میں بھڑکتی تھی ، بجھا دی گئی کیا؟ مری مٹّی بھی ہواؤں میں اُڑا دی گئی کیا؟ یہ جو قاتل کو عدالت نے بَری کر ڈالا یہ بھی مقتول کے بچّوں کو سزا دی گئی کیا؟ تیرے گھر کے در و دیوار مجھے بُھول گئے مری تصویر بھی کمرے سے ہَٹا دی گئی کیا؟ تجھے کس نے سرِ بازارِ وفا بھیجا تھا اے مِرے دل ! تِری قیمت بھی گھٹا دی گئی کیا؟ موسمِ تَرکِ تعلق کا تو اِمکاں ہی نہ تھا اَن کہی بات کو دانستہ…

Read More

نعتؐ ۔۔۔ محمد انیس انصاری

کُھل جائے گی ہر اک پہ حقیقت حضورؐ کی محشر میں دیکھیے گا حکومت حضورؐ کی زندہ ہے ، اور زندہ رہے گا اَبد تلک جس دل میں بَس گئی ہے محبت حضورؐ کی ایماں اُسی کا اکمل و کامل ہے صاحبو! جس دل میں جاگزین ہے اُلفت حضورؐ کی ہم جی رہے ہیں رحمتِ عالم کی چھاؤں میں صَد مرحبا! سَروں پہ ہے رحمت حضورؐ کی ربِّ غفور ! میری تہی دامنی نہ دیکھ فردِ عمل میں لایا ہوں نسبت حضورؐ کی جانِ انیس! حضرتِ حسانؓ ہوں جہاں کیسے…

Read More

فہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ محمد انیس انصاری

Read More