اَور کوئی نہیں چار سُو ، تُو ہی تُو ہر طرف ایک آوازِ ہُو ، تُو ہی تُو وجہِ تخلیق و وجہِ نُمُو تُو ہی تُو سینۂ سنگ میں آبجُو تُو ہی تُو ہوں ازل تا ابد مَیں سفر در سفر ہر سفر میں مِری جستجو تُو ہی تُو ! تخلیے میں ہے افضل تِرا تذکرہ بزم میں حاصلِ گُفتگُو تُو ہی تُو! میرے رُخ پر خجالت کی زردی بھی ہے مُجھ کو رکھتا بھی ہے سرخرو تُو ہی تُو دُور ہم تُجھ سے ہیں، تُو تو ہم سے نہیں…
Read More