اَور کوئی نہیں چار سُو ، تُو ہی تُو ہر طرف ایک آوازِ ہُو ، تُو ہی تُو وجہِ تخلیق و وجہِ نُمُو تُو ہی تُو سینۂ سنگ میں آبجُو تُو ہی تُو ہوں ازل تا ابد مَیں سفر در سفر ہر سفر میں مِری جستجو تُو ہی تُو ! تخلیے میں ہے افضل تِرا تذکرہ بزم میں حاصلِ گُفتگُو تُو ہی تُو! میرے رُخ پر خجالت کی زردی بھی ہے مُجھ کو رکھتا بھی ہے سرخرو تُو ہی تُو دُور ہم تُجھ سے ہیں، تُو تو ہم سے نہیں…
Read MoreTag: Naseem e sahar
نسیمِ سحر ۔۔۔ یُوں مِرے بُرجِ مُلاقات میں داخل ہو جاؤ
یُوں مِرے بُرجِ مُلاقات میں داخل ہو جاؤ شعر بن کر مِرے وِجدان پہ نازل ہو جاؤ بہتے پانی سے کوئی ربط تو رکھنا ہو گا! گر سمندر نہیں ہو سکتے ہو، ساحل ہو جاؤ اِک نئی زیست کا آغاز بھی ہو سکتا ہے اتّفاقاً جو کبھی تُم مُجھے حاصل ہو جاؤ فیصلہ کوئی مِرے بارے میں کرنا ہے تمہیں ’’تُم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ‘‘ ٹمٹماتے ہوئے تاروں کی طرح کیا جینا! اُفقِ شب پہ مثالِ مہِ کامِل ہو جاؤ لے کے آیا ہے عدُو پھر…
Read Moreنعتؐ ….نسیمِ سحر
وہؐ سُن کے عِشق میں ڈوبی سطُور، خوش ہوں گے غلام سے مرے آقا حضورؐ خوش ہوں گے بُلاوا آیا جو عُشّاق کو مدینے سے بحور و دشت بھی کر کے عبور خوش ہوں گے خدا کرے یہ مرا خواب سچا ثابت ہو کہ میری نعت سنیں گے حضورؐ، خوش ہوں گے اُڑان میں جو کریں گے طوافِ گُنبدِ سبز تو خوب چہکیں گے اُڑتے طیور، خوش ہوں گے ! پسینہ اُن ؐ کا جو پھیلائے گا مہک اپنی تو ہار مان کے عُود و بخُور خوش ہوں گے مدینے…
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔ ہائیکو
ہائیکو ۔۔۔۔۔۔۔ میرے سرہانے پر صبح سویرے رکھتا ہے کون گلاب کا پھول؟ …………… کس نے غور کیا ! اندر کے سنّاٹوں نے کتنا شور کیا …………… حُسن کا جب طلسم ٹوٹ گیا وقت کی صرف ایک جنبش سے سنگِ مر مر کا جسم ٹوٹ گیا …………… پیار کے یہ سنجوگ دامن میں بھر دیتے ہیں کیسے کیسے روگ !
Read Moreنسیمِ سحر
روابط دھوپ سے ہیں اب تمہارے بہت بے سائبانی ہو گئی کیا
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔ نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
نعتؐ ہے کیسا معجزہ اسمِ نبیؐ کا! کہ گھر روشن ہؤا ہے مدحتی کا درِ آقاؐ پہ میری حاضری کا عجب لمحہ تھا وہ خوش قسمتی کا ہوئی مجھ پر خُدا کی مہربانی کہ اُس نے کر دیا مجھ کو نبیؐ کا مدینے کی طرف جانا ہے مُجھ کو ’’تعاقب کر رہا ہوں روشنی کا‘‘ تسلسل اب بھی ہے کون و مکاں میں وہی غارِ حرا کی روشنی کا مِرے آقاؐ، بہت بھٹکا ہؤا ہوں مگر مَیں ہوں سدا سے آپؐ ہی کا ! بڑا ویران ہوتا جا رہا ہوں…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ نسیمِ سحر
رحم ہم پر ہو اب اَے شہِ دَوسراؐ ساری دُنیا ہے درپَے شہِ دَوسراؐ ہو مجھے بھی عطا ، اَے شہِ دَوسراؐ نعت کا لحن اور لَے، شہِ دَوسراؐ صرف دو لفظ اس استغاثے کے ہیں طرزِ غالبؔ میں ’ہَے ہَے‘، شہِ دَوسراؐ بس اُسی راستے پر رہوں گامزن جو ہے میرے لیے طَے، شہِ دَوسراؐ آپ کی اک نگاہ ِکرم کے عوض لوں نہ ہر گز کوئی شے ، شہِ دوسراؐ اس خماری میں بھی ہوشمندی رہے معرفت کی مِلے مَے، شہِ دوسراؐ آپؐ کے در پہ آؤں گا…
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔ عشق میں جتنا مرا نقصان ہونا تھا، ہؤا
عشق میں جتنا مرا نقصان ہونا تھا، ہؤا مجھ کوآخر بے سر و سامان ہونا تھا، ہؤا میں یہاں رہتا بھی تو مقسوم اِس کا تھا یہی یہ نگر برباد اور ویران ہونا تھا، ہؤا شاہ کی باغی رعایا کیوں معافی مانگتی؟ شہر برہم اور نافرمان ہونا تھا ہوا عکس میں شامل ہؤا لمسِ جمالِ یار بھی آئنے کواَور کچھ حیران ہونا تھا، ہؤا دیر تک دُنیا سرائے میں ٹھہرتا کون ہے مجھ کو بھی کچھ دن یہاں مہمان ہونا تھا ہوا ڈال دیں ہتھیار ہم، ایسا کبھی سوچا نہ…
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔ کچھ کام نہ آئے گی اب عکس گری اپنی
کچھ کام نہ آئے گی اب عکس گری اپنی توڑے گی سب آئینے آشفتہ سری اپنی پت جھڑ کے تسلّط کو تسلیم نہیں کرتے شاخوں پہ سجا کر بھی ہم بے ثمری اپنی گھر جانے کی خواہش میں یہ خوف بھی لاحق ہے لے جائے کہاں جانے پھر در بدری اپنی آئینہ مقابل ہو اور دیکھ لیں ہم تُجھ کو حائل ہے ابھی اِس میں کچھ کم نظری اپنی اس واسطے کرتے ہیں ہم عام ہُنر اپنے کھُل جائے نہ دُنیا پر ہر بے ہُنری اپنی آیا ہے وہی پہلے…
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔ ’’آفتاب آمد دلیلِ آفتاب‘‘ ( نعتیہ نظم)
جِس کے لئے زمین دلیل،آسماں دلیل جس کے لئے ہوئے ہیں یہ کون و مکاں دلیل جس کے لئے ہیں بحر کی گہرائیاں دلیل جس کے لئے پہاڑوں کی اونچائیاں دلیل صحرا میں جس کے فیض کی زرخیزیاں دلیل گلپوش پیڑ اور حسیں وادیاں دلیل جس کی گواہ بحر کی سب بے کرانیاں چشموںسے پھوٹتا ہؤا آبِ رواں دلیل یثرب تھا جو ، مدینۂ طیبہ کہا گیا اُس بے مثال کے لئے ہے وہ مکاں دلیل جس کی صداقتوںکے لئے وقف ہر یقیں ہر اعتقاد جس کے لئے بے گماں…
Read More