نسیمِ سحر ۔۔۔ ماہیے

اپنوں میں نہیں دیکھا تعبیر تو کیا ، اُس کو سپنوں میں نہیں دیکھا ……… بھرپور جوانی ہے جاناں کا سراپا بھی دلچسپ کہانی ہے ……… برہم ہوں زمانے سے روکا ہے ہمیں اس نے کیوں ملنے ملانے سے ……… دل توڑ گیا کوئی آتے ہوئے جب ، اپنا رخ موڑ گیا کوئی جس دن سے وہ روٹھا ہے دل جڑ ہی نہیں پایا کچھ ایسے یہ ٹوٹا ہے

Read More

فہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ منقبت امام حسینؑ

ہمیں عزیز نہ کیونکر ہو، غم حسین ؑ کا ہے اُسی نواسۂ شاہِ اُمم، حسین ؑ کا ہے ہیں مطمئن،متعین ہے راستہ اپنا ہمارے سامنے نقشِ قدم حسین ؑ کا ہے یہ سانحہ تھا کہ وہ لشکرِ یزید میں تھا یہ معجزہ ہے کہ حُر ہم قدم حسین ؑ کا ہے زباں سے اور قلم سے بیاں کریں جتنا مقام اُس سے کہیں محترم حسین ؑ کا ہے یزید حرفِ غلط تھا، سو مٹ چکا کب کا زمانہ اب بھی خدا کی قسم، حسین ؑ کا ہے یزیدی قوتیں اب…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ نسیم سحر

اللہ کی برکت کی کیا شان مدینے میں ! اِک نُور کا عالم ہے ہر آن مدینے میں حاضر تو ہوں مکّے میں، اور دھیان مدینے میں ہے جسم یہاں میرا، اور جان مدینے میں طیبہ میں عطا ہو گا آرا م و سکوں کتنا دیکھو ذرا تم رہ کر مہمان مدینے میں کچھ نعتیں مَیں پنڈی میں کیسے بھلا لکھ پاتا؟ ہونا تھا مکمل جب دیوان مدینے میں سانسیں مری باقی ہیں وہ جب بھی مکمل ہوں بس اتنی تمنا ہے دوںجان مدینے میں میں اُن ؐ کے بُلاوے…

Read More

حمد باری تعالی ۔۔۔ نسیمِ سحر

جو بھی لکھتا ہوں سخن پارۂ حمد لب پہ آ جاتا ہے اِک نعرۂ حمد گویا ہو جاتا ہے قرآں گویا ! جو بھی پڑھتا ہوں مَیں سیپارۂ حمد ہفت افلاک سے بھی بالا ہے کیا کہوں رفعتِ مینارۂ حمد ! حمدِ باری کا مَیں جو حرف لکھوں وہی بن جاتا ہے شہ پارۂ حمد پیش منظر ہوں کہ پس منظر ہوں دیدنی سب میں ہے نظّارۂ حمد دے گیا حمد کی سوغات نسیمؔ مہرباں ہو گیا ہر کارۂ حمد

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ تِرا مشورہ مان لوں میں؟

تِرا مشورہ مان لوں میں؟ یہ کھوٹا، کھرا مان لوں میں؟ میں اپنی اکائی کو توڑوں؟ تجھے دُوسرا مان لوں میں؟ فضا میں جو تتلی ہے رقصاں اُسے اپسرا مان لوں میں تری جستجو چھوڑ دوں کیا؟ تُجھے ماورا مان لوں میں؟ ستاروں سے خالی فلک کو ستاروں بھرا مان لوں میں؟ یہ سُوکھا ہوا زرد پتّا اسے کیوں ہَرا مان لوں میں؟ جو ابلیس کہتا ہے مجھ سے بتا، داورا ، مان لوں میں؟

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ گماں یہ نہ کیجو، بڑا وقت ہے

گماں یہ نہ کیجو، بڑا وقت ہے کہ پھٹتا ہوا چیتھڑا وقت ہے کبھی مان لیتا تھا باتیں مِری اور اب اپنی ضِد پر اَڑا وقت ہے یکایک ہی اُس کی گھڑی رُک گئی جو یہ کہہ رہا تھا، بڑا وقت ہے ! میں لاوقت ہوں اور مشکل میں ہوں مِرے راستے میں پڑا وقت ہے کہیں ٹوٹ جانا تو ہے لازمی کہ دریا میں کچا گھڑا وقت ہے کوئی وقت بھی اتنا اچھا نہ تھا مگر یہ بہت ہی کڑا وقت ہے مری عمر کچھ اِتنی کم بھی نہیں…

Read More

علامہ اقبال

عروسِ لالہ! مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب کہ مَیں نسیمِ سحر کے سوا کچھ اور نہیں

Read More