دانش عزیز ۔۔۔۔ تم پہ لازم ہے کہ ہر چال کو الٹا کھیلو

تم پہ لازم ہے کہ ہر چال کو الٹا کھیلو سامنے والا تو چاہے گا کہ آدھا کھیلو وصل کی شرط پہ شطرنج وہ ہاری تو کہا میں نہیں کھیلتی تم مجھ سے دوبارہ کھیلو کپکپاتی ہوئی پوروں کو سنبھالو اپنی موت کے کھیل کو اچھے سے مسیحا کھیلو اس لیے آج تلک جیت سے واقف نہیں میں حکم صادر تھا کہ ہر کھیل ہی تنہا کھیلو فائدہ کیا حدِ فاصل سے تجاوز کر کے ٍجتنا آتا ہے تمہیں کھیلنا اتنا کھیلو آخری سانس تلک ہجر نبھاؤ یارو جاں ہتھیلی…

Read More

دانش عزیز ۔۔۔ تیری شاہی تو نہیں میرے خدا مانگی تھی

تیری شاہی تو نہیں میرے خدا مانگی تھی میں نے بیٹی کے مقدر کی دعا مانگی تھی تجھ سے مانگی ہی نہیں بادِ صبا کی نعمت موسمِ حبس میں تھوڑی سی ہوا مانگی تھی اس کی پاداش میں خورشید خفا بیٹھا ہے میں نے جگنو سے اندھیرے میں ضیا مانگی تھی وہ ہی دو چار سی خوشیاں وہ ہی تھوڑا سا سکوں یوں بھی تقدیر کہاں سب سے جدا مانگی تھی صاف گوئی مجھے لاحق ہے مرے اچھے طبیب بس اسی واسطے اچھی سی دوا مانگی تھی جبر کے نیزے…

Read More

فہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023

Read More

دانش عزیز ۔۔۔ ہوجائیں کسی کے جو کبھی یار مُنافق

ہوجائیں کسی کے جو کبھی یار مُنافق سمجھو کہ ہوئے ہیں دَر و دیوار مُنافق بَن جاتا ہے کیسے کوئی سَالار مُنافق یہ بات سمجھنے کو ہے دَرکار مُنافق مُمکن تھا کبھی اُن کو میں خاطر میں نہ لاتا ہوتے جو مقابل مرے دو چار مُنافق اِ ن کو کسی بازار سے لانا نہیں پَڑتا یاروں میں ہی مل جاتے ہیں تَیّار مُنافق ناپید ہوا جاتا ہے اِخلاص یہاں پَر سَر دار مُنافق ہے سرِ دار مُنافق جو شَخص مُنافق ہے , مُنافق ہی رہے گا اِک بار مُنافق ہو…

Read More

دانش عزیز ۔۔۔ مرا نام لو کبھی

اُس نے کہا!کہ عشق کی تعریف توکرو!! میں نے کہا! کہ خیر ہے یہ کیا ہوا تمہیں؟ اُس نے کہا! بتاؤ نا ہوتا ہے کس طرح؟ میں نے کہا! یہ آسماں والے کی دَین ہے!! اُس نے کہا!کہ کوئی تو نکتہ بیان ہو!! میں نے کہا! کہ جب کوئی سَب سے حسیں لگے!! اُس نے کہا!کہ عشق کو لازم ہے ِاک حسیں؟ میں نے کہا! نہیں نہیں! یہ لازمی نہیں!! اُس نے کہا!نشانی کوئی اور بھی بتا؟ میں نے کہا!کہ چار سو وہ ہی دِکھائی دِے!! اُس نے کہا!کہ مان…

Read More