اوّلیں اور آخری تنہا صاحبو ! ایک ہے ’’علی‘‘ تنہا رنگ سب اُڑ گئے ہَواؤں میں پھر تری یاد رہ گئی تنہا تیرگی میں بھی ہے شعاع ِ اُمید اِتنے غم اور اِک خوشی تنہا اُن مکانوں میں پھول کِھلتے ہیں دیکھتا ہے اُنہیں کوئی تنہا اُس سے بچھڑا تو پھر سمجھ آئی کیسے ہوتا ہے آدمی تنہا لوگ سب اپنے کام کاج میں گْم ہوتی جاتی ہے زندگی تنہا سب کو تنہائی سے بچانے لگا اور پھر ہو گیا وہی تنہا میرے چاروں طرف اندھیرا ہے بس یہاں پر…
Read MoreTag: ظہور چوہان
ظہور چوہان ۔۔۔ تمہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ کیا ہے کونے میں
تمہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ کیا ہے کونے میں دُکھوں کو باندھ کے رکھا ہوا ہے کونے میں اب اُس کی یاد مرے ساتھ یوں لِپٹ گئی ہے کہ جیسے بچہ کوئی سو رہا ہے کونے میں نکل کے خود سے کہیں اور مَیں چلا گیا ہوں وہ مَیں نہیں ہوں ، کوئی دوسرا ہے کونے میں کْھلی فضا میں جو مُرجھا کے گرنے والا تھا وہ زرد پھول بھی کِھلنے لگا ہے کونے میں یہاں جو روشنی پھیلی ہوئی ہے چاروں طرف کہیں چراغِ محبت جلا ہے کونے…
Read Moreفہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023
ظہور چوہان ۔۔۔ دلِ ویران کی وحشت سے جب گھر چیخ اٹھتا ہے
ظہور چوہان ۔۔۔ اُس گھر کی خموشی دیدنی تھی
اُس گھر کی خموشی دیدنی تھی آواز کسی کی گونجتی تھی زخموں سے بدن تھا چُور میرا آنکھوں میں تھکن شکست کی تھی میں بُجھتا ہوا دِیا تھا لیکن ہر سمت مری ہی روشنی تھی رہرو سے بچھڑ رہے تھے رستے اور پاؤں سے خاک اُڑ رہی تھی جاگا ہوا تھا وجود اُس کا وہ پاس مرے کھڑی ہوئی تھی پہچان نہیں سکا میں اُس کو اک دم وہ قریب آ گئی تھی میں چھوڑ گیا ظہور خود کو اور مجھ میں وہ بیٹھی رو رہی تھی
Read More