دنیا دار
۔۔۔۔۔
آنکھوں میں
جلوہ کناں چاہت
اِخلاص کی ساری حدت
اِحساس کا تمام وزن
جذبوں کے سارے پرتو
جب میں نے
جنون کے میزان پر رکھے
تو
تمہارا پلڑا بھاری تھا
کہ تم نے ٹوٹ کر محبت کی
اور میں
احتیاط کے کرب میں اُلجھا
صرف دُنیاداری کرسکا
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ پذیرائی
ابھی میں نے دہلیز پر پاؤں رکھا ہی تھا کہ کسی نے مرے سر پہ پھولوں... -
پروین شاکر ۔۔۔ گئے جنم کی صدا
وہ ایک لڑکی کہ جس سے شاید میں ایک پل بھی نہیں ملی ہوں میں اس... -
پروین شاکر ۔۔۔ وہی نرم لہجہ
وہی نرم لہجہ جو اتنا ملائم ہے جیسے دھنک گیت بن کے سماعت کو چھونے لگی...
