دنیا دار
۔۔۔۔۔
آنکھوں میں
جلوہ کناں چاہت
اِخلاص کی ساری حدت
اِحساس کا تمام وزن
جذبوں کے سارے پرتو
جب میں نے
جنون کے میزان پر رکھے
تو
تمہارا پلڑا بھاری تھا
کہ تم نے ٹوٹ کر محبت کی
اور میں
احتیاط کے کرب میں اُلجھا
صرف دُنیاداری کرسکا
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم
اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی... -
فہمیدہ ریاض ۔۔۔ اب سو جاؤ
اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے... -
حفیظ جالندھری ۔۔۔ ابھی تو میں جوان ہوں
ہَوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنمِ ہزار ہے بہار پر بہار...
