ہجر کا بھی امکان کہاں تھا وصل کا بھی ارمان کہاں تھا ہر آواز پہ لوٹ آیا تھا مجھ جیسا نادان کہاں تھا کوفہ والے بدل گئے تھے جو کہتے تھے مان کہاں تھا وصل کے منظر لکھنا چاہے ہجر مرا عنوان کہاں تھا تو میری پہچان ہوا ہے میں تیری پہچان کہاں تھا تم تو اِک انمول رتن تھے عشق کا یہ تاوان کہاں تھا صحرا صحرا گزر ہوا ہے رخت کہاں ، سامان کہاں تھا
Read MoreTag: طلعت شبیر
طلعت شبیر ۔۔۔۔ تنہا کھڑے تھے جراتِ اِنکار ہم ہی تھے
تنہا کھڑے تھے جراتِ اِنکار ہم ہی تھے ظلمت کی شب سے برسرِ پیکار ہم ہی تھے گو اِبتدا میں نام گوارا نہ تھا انہیں پھر یوں ہوا کہ محورِ گفتار ہم ہی تھے جیسے کوئی چراغ ہوائوں کی زد پہ ہو ایسے دیے کے ساتھ ہراِک بار ہم ہی تھے اِس پار بھی گھڑے کی کہانی وفا کی تھی اُس پار بھی وفاؤں کا معیار ہم ہی تھے جرمِ وفا کے واسطے مشقِ ستم ہوئی جرمِ وفا کے آخری اوتار ہم ہی تھے ہم پر تھے حق نوائی کے…
Read Moreطلعت شبیر ۔۔۔ دنیا دار
دنیا دار ۔۔۔۔۔ آنکھوں میں جلوہ کناں چاہت اِخلاص کی ساری حدت اِحساس کا تمام وزن جذبوں کے سارے پرتو جب میں نے جنون کے میزان پر رکھے تو تمہارا پلڑا بھاری تھا کہ تم نے ٹوٹ کر محبت کی اور میں احتیاط کے کرب میں اُلجھا صرف دُنیاداری کرسکا
Read Moreطلعت شبیر ۔۔۔ پھر اُفق پر دل جڑا تھا شام سے
پھر اُفق پر دل جڑا تھا شام سے اور میں تنہا کھڑا تھا شام سے آرزو مفلس کی یوں پھر سو گئی خواب بھی اوندھا پڑا تھا شام سے ڈوبتا سورج، جدائی آ پڑی! وقت میرا پھر کڑا تھا شام سے قافلہ شبیر کا گزرا ہے کیا؟ پھر کوئی خیمہ پڑا تھا شام سے رات بھی مغموم ہوتی جائے ہے کیا فسانہ پھر گھڑا تھا شام سے میں ہوں داعی روشنی کا اس لیے یاد ہے مجھ کو لڑا تھا شام سے ہجرتوں کے سارے منظر کھو گئے ایک منظر…
Read Moreطلعت شبیر ۔۔۔ اگلا جنم (نثری نظم)
اگلا جنم ۔۔۔۔۔۔ روایتوں کی قید میں آنکھ کھلی نہ دل اپنے بس میں تھا نہ جسم پہ کوئی دسترس خواب تعبیروں کے تعاقب میں جنگل جنگل اُلجھے رہے خواہشیں موسموں کی طرح بیت گئیں اور زندگی اگلے جنم پر تکیہ کیے گزر گئی
Read More