تنہا کھڑے تھے جراتِ اِنکار ہم ہی تھے ظلمت کی شب سے برسرِ پیکار ہم ہی تھے گو اِبتدا میں نام گوارا نہ تھا انہیں پھر یوں ہوا کہ محورِ گفتار ہم ہی تھے جیسے کوئی چراغ ہوائوں کی زد پہ ہو ایسے دیے کے ساتھ ہراِک بار ہم ہی تھے اِس پار بھی گھڑے کی کہانی وفا کی تھی اُس پار بھی وفاؤں کا معیار ہم ہی تھے جرمِ وفا کے واسطے مشقِ ستم ہوئی جرمِ وفا کے آخری اوتار ہم ہی تھے ہم پر تھے حق نوائی کے…
Read MoreTag: Talat Shabbir
طلعت شبیر ۔۔۔ تخیل میں جو صورت رہ گئی ہے
تخیل میں جو صورت رہ گئی ہے وہی مٹی کی مورت رہ گئی ہے محبت کی وضاحت رہ گئی ہے یہی تو اِک اذیت رہ گئی ہے مجھے تم چھوڑ کر چلتے بنے ہو کہو اب کیا قیامت رہ گئی ہے ہماری بات تک سنتا نہیں تھا ہماری بھی شکایت رہ گئی ہے تری گفتار کے چرچے بہت تھے تری ساری مہارت رہ گئی ہے ہوئی کارِ محبت سے فراغت فراغت ہی فراغت رہ گئی ہے میں اپنے گاؤں کو پھر لوٹ جاؤں یہ دل میں ایک حسرت رہ گئی…
Read Moreطلعت شبیر ۔۔۔ ایک دھڑکا سا لگا تھا شام سے
ایک دھڑکا سا لگا تھا شام سے دل بھی مشکل میں پڑا تھا شام سے کیا ہوا ، ہونے کو ہے پھر شہر میں میں بھی کیا کیا سوچتا تھا شام سے بارشوں میں غم بھی تازہ ہو گئے دل کا ہر اک دکھ ہرا تھا شام سے آ گیا سورج ہتھیلی پر لیے اک دیا ہی تو بجھا تھا شام سے پھر مسافت رہ گئی تھی دم بخود دل بھی جیسے آبلہ تھا شام سے یوں جدا مجھ سے ہوا تھا شام کو میں بھی کب اُس سے ملا…
Read Moreطلعت شبیر ۔۔۔ پھر وہی ہے حصار پہلا سا
پھر وہی ہے حصار پہلا سا دل کو ہے انتظار پہلا سا کچھ تو تفصیل ہو کہانی کی جانے کیوں اختصار پہلا سا تھک چکا ہے سفر کی وحشت سے اب نہیں ہے سوار پہلا سا پھر وی ایک بدگمانی ہے کیوں نہیں اعتبار پہلا سا ہو گیا ہوں میں گردشوں کا اسیر اب کہاں ہوں میں یار پہلا سا کیا ہوا ہے جنون کا غلبہ آگیا انتشار پہلا سا پھر دسمبر کی سرد شامیں ہیں دل ہوا بے قرار پہلا سا
Read Moreطلعت شبیر ۔۔۔ پھر اُفق پر دل جڑا تھا شام سے
پھر اُفق پر دل جڑا تھا شام سے اور میں تنہا کھڑا تھا شام سے آرزو مفلس کی یوں پھر سو گئی خواب بھی اوندھا پڑا تھا شام سے ڈوبتا سورج، جدائی آ پڑی! وقت میرا پھر کڑا تھا شام سے قافلہ شبیر کا گزرا ہے کیا؟ پھر کوئی خیمہ پڑا تھا شام سے رات بھی مغموم ہوتی جائے ہے کیا فسانہ پھر گھڑا تھا شام سے میں ہوں داعی روشنی کا اس لیے یاد ہے مجھ کو لڑا تھا شام سے ہجرتوں کے سارے منظر کھو گئے ایک منظر…
Read Moreطلعت شبیر ۔۔۔ اگلا جنم (نثری نظم)
اگلا جنم ۔۔۔۔۔۔ روایتوں کی قید میں آنکھ کھلی نہ دل اپنے بس میں تھا نہ جسم پہ کوئی دسترس خواب تعبیروں کے تعاقب میں جنگل جنگل اُلجھے رہے خواہشیں موسموں کی طرح بیت گئیں اور زندگی اگلے جنم پر تکیہ کیے گزر گئی
Read More