اوّلیں اور آخری تنہا
صاحبو ! ایک ہے ’’علی‘‘ تنہا
رنگ سب اُڑ گئے ہَواؤں میں
پھر تری یاد رہ گئی تنہا
تیرگی میں بھی ہے شعاع ِ اُمید
اِتنے غم اور اِک خوشی تنہا
اُن مکانوں میں پھول کِھلتے ہیں
دیکھتا ہے اُنہیں کوئی تنہا
اُس سے بچھڑا تو پھر سمجھ آئی
کیسے ہوتا ہے آدمی تنہا
لوگ سب اپنے کام کاج میں گْم
ہوتی جاتی ہے زندگی تنہا
سب کو تنہائی سے بچانے لگا
اور پھر ہو گیا وہی تنہا
میرے چاروں طرف اندھیرا ہے
بس یہاں پر ہے روشنی تنہا
میرا محسن بھی ہے ظہور وہی
اور مرا دوست بھی ’’علی تنہا‘‘
