طالب انصاری ۔۔۔ ایسا نہیں کہ اس کی محبت نہیں ملی

ایسا نہیں کہ اس کی محبت نہیں ملی
جی کا ملال ، روح کی راحت نہیں ملی

صد شکر غم نے رکھ لی مری زندگی کی لاج
خوش ہو کے جی لوں ایسی سہولت نہیں ملی

میری بھی آرزو تھی کہ دل کھول کے ہنسوں
لیکن ترے غموں سے اجازت نہیں ملی

رخسارِ یار پر نہیں تمثیلِ گل روا
پھولوں کو اس قدر تو صباحت نہیں ملی

برسوں کے بعد دیکھا جو سوئے دیارِ دل
کوئی وہاں پرانی عمارت نہیں ملی

ہر رات مجھ کو لوٹ کے آنا پڑا ہے گھر
آوارگی بھی حسبِ ضرورت نہیں ملی

غیروں کے اختلاف کا کوئی گلہ نہیں
مجھ کو تو اپنوں کی بھی حمایت نہیں ملی
دل میں تمام خواہشیں مل جل کے رہ سکیں
چھوٹے سے گھر کو اتنی بھی وسعت نہیں ملی

خاطر میں عشق لاتا نہیں بن بلائے کو
مت جائے وہ وہاں جسے دعوت نہیں ملی

صدیوں سے آسمان و زمیں رہ رہے ہیں ساتھ
اک دوسرے سے پھر بھی طبیعت نہیں ملی

طالب بساطِ عشق پہ اک بار ہار کر
دوبارہ کھیلنے کی رعایت نہیں ملی

Related posts

Leave a Comment