ایک بے چینی مرے دِل کو لگی رہتی ہے
ایسا لگتا ہے کہیں کوئی کمی رہتی ہے
وقت بھی راکھ ہوا ، خاک ہوئی اس کی لگن
کوئی چنگاری مگر دِل میں دبی رہتی ہے
تیرے آ جانے کی ساعت نہ کہیں کھو بیٹھوں
سوتے سوتے بھی مری آنکھ کھُلی رہتی ہے
آئنہ خانے میں اب میَں نہیں تُو بستا ہے
تیرے ہونے سے مرے گھر میں خوشی رہتی ہے
راستے اب بھی ترے واسطے بچھ رہتے ہیں
اور منڈیروں پہ تری یاد جلی رہتی ہے
آتا ہے جب بھی تری یاد میں لِپٹا جھونکا
دیر تک کمرے میں اِک خوشبو رُکی رہتی ہے
