شبہ طراز ۔۔۔ ایک بے چینی مرے دِل کو لگی رہتی ہے

ایک بے چینی مرے دِل کو لگی رہتی ہے ایسا لگتا ہے کہیں کوئی کمی رہتی ہے وقت بھی راکھ ہوا ، خاک ہوئی اس کی لگن کوئی چنگاری مگر دِل میں دبی رہتی ہے تیرے آ جانے کی ساعت نہ کہیں کھو بیٹھوں سوتے سوتے بھی مری آنکھ کھُلی رہتی ہے آئنہ خانے میں اب میَں نہیں تُو بستا ہے تیرے ہونے سے مرے گھر میں خوشی رہتی ہے راستے اب بھی ترے واسطے بچھ رہتے ہیں اور منڈیروں پہ تری یاد جلی رہتی ہے آتا ہے جب بھی…

Read More

شبہ طراز ۔۔۔ کتنا مشکل ہے خدا ہونا بھی

کتنا مشکل ہے خدا ہونا بھی درد دینا بھی ، دوا ہونا بھی ایک للکار ہے آندھی چلنا اور للکار دِیا ہونا بھی نہیں آسان تمہارا ملنا نہیں آسان جُدا ہونا بھی عشق! بس تیری نشانی ٹہرا دل دھڑکنا بھی ، رُکا ہونا بھی اِک قیامت پہ ٹلا ہے شاید تیرے وعدے کا وفا ہونا بھی بن گیا فخرِ جوازِ خلقت ایک سجدے کا ادا ہونا بھی

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ شبہ طراز

شبہ طراز علم وادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے محترمہ شبہ طراز کا نام نیا نہیں ہے۔وہ شاعرہ، مصورہ، مدیرہ اور افسانہ نویس ہیں۔’اُن کی طبع شدہ کتب میں ’’جگنو ہنستے ہیں‘‘ (ہائیکو اور ماہیے)، ’’جھیل جھیل اداسی‘‘ (نظمیں)، ’’چاندنی میں رقص‘‘ (ہائیکو تراجم)، درد کا لمس (افسانے)، ریپنزل (نظمیں، غزلیں) شامل ہیں۔عذرا اصغر کے کراچی چلے جانے کے بعد ماہ نامہ تجدیدِ نو کو سہ ماہی جریدے میں بدل کر اس کا دوبارہ اجرا کیا لیکن کچھ مشکلات آڑے آئیں تو پرچہ بند کرنا پڑا۔کرشن چندر اِن کے…

Read More