طارق بٹ ۔۔۔ اک کہانی تھی دل سمائی ہوئی

اک کہانی تھی دل سمائی ہوئی
کیا کہوں کون تھی، پرائی ہوئی
کبھی پروا کبھی وہ باد صبا
کہیں خوشبو کے بھیس آئی ہوئی
دھوپ سائے سی جلوَگی اس کی
سہمی سہمی، ادا نہائی ہوئی
کار صورت گری تھا اس پہ تمام
کیا تھی مورت، سجی سجائی ہوئی
عشق کی اک ملامتی سی نظر
اور جو پھر ہے جگ ہنسائی ہوئی
وقت کی ڈھیل میں ہے ہر لمحہ
ڈُور بھی اُس کی ہے لگائی ہوئی
روز کٹتی ہے اک خیال پتنگ
روز اک دید ماورائی ہوئی
بجھتی جاتی ہے ہر خیال کی لو
تا بکے سوچ، جھلملائی ہوئی
سست ہوتے شعور کی رو میں
کوئی لغزش ہی، برقیائی ہوئی

Related posts

Leave a Comment