عقیدت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ سے ہے دینِ قَیِم، آپ کی نسبت سے ہم یہ نشاں قائم تو کس کو عُقبیٰ و دنیا کا غم یا رسول اللہ محبت آپ کی دل پر رقم یا رسول اللہ محبت آپ کی ہم کو انم یا رسول اللہ ہے اُسوہ آپ کا دوزخ نجات یا رسول اللہ ہے اُسوہ آپ کا جنت قدم یا نبی یا احمدِ مختار یا خیر البشر آپ کی نسبت سے امت کا لقب خیر الامم دل کی ہر اک ضرب ہے صلِ علیٰ صلِ علیٰ اور لب پر یا…
Read MoreTag: طارق بٹ کی غزلیں
طارق بٹ ۔۔۔ یہ زندگی جو مرے چار سو ہُمکتی ہے
یہ زندگی جو مرے چار سو ہُمکتی ہے اِسی میں عصر کی آئندگی جَھلکتی ہے فریب دیتی ہے آنکھوں کو روشنی اس کی وداعِ شب، یہ جو کاذب سی لو بھڑکتی ہے اِسی دیار، کہ ہر سو سماں تھا میلے سا کسی تلاش میں، ویرانگی بھٹکتی ہے رہے نہ اب وہ سبک گام، قافلے، دل کے نہ خاک اُٹھ کے سرِ راہ سر پٹکتی ہے گلہ گزار نہ تجھ سے نہ اپنے آپ سے ہوں اسی کے کام ہیں، سارے میں جس کی شکتی ہے ہے غوطہ زن یہ نظر…
Read Moreطارق بٹ ۔۔۔ اک کہانی تھی دل سمائی ہوئی
اک کہانی تھی دل سمائی ہوئی کیا کہوں کون تھی، پرائی ہوئی کبھی پروا کبھی وہ باد صبا کہیں خوشبو کے بھیس آئی ہوئی دھوپ سائے سی جلوَگی اس کی سہمی سہمی، ادا نہائی ہوئی کار صورت گری تھا اس پہ تمام کیا تھی مورت، سجی سجائی ہوئی عشق کی اک ملامتی سی نظر اور جو پھر ہے جگ ہنسائی ہوئی وقت کی ڈھیل میں ہے ہر لمحہ ڈُور بھی اُس کی ہے لگائی ہوئی روز کٹتی ہے اک خیال پتنگ روز اک دید ماورائی ہوئی بجھتی جاتی ہے ہر…
Read Moreطارق بٹ … دل کی رفتار زلزلائی ہوئی
دل کی رفتار زلزلائی ہوئیاپنے قدموں پہ ڈگمگائی ہوئی درد نے طرز ہے بنائی ہوئییہی بندش ہے دل کو بھائی ہوئی سوز خوانی نہ سنیو سینے کیآنکھ مت دیکھ ڈبڈبائی ہوئی لمحہ لمحہ ، کریدتا گزراآہ : دیوار جاں یہ ڈھائی ہوئی لاؤ اب ساخت کوئی دل کی نئیبے دھڑک سی نپی نپائی ہوئی
Read More