طارق بٹ ۔۔۔ عقیدت

عقیدت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ سے ہے دینِ قَیِم، آپ کی نسبت سے ہم یہ نشاں قائم تو کس کو عُقبیٰ و دنیا کا غم یا رسول اللہ محبت آپ کی دل پر رقم یا رسول اللہ محبت آپ کی ہم کو انم یا رسول اللہ ہے اُسوہ آپ کا دوزخ نجات یا رسول اللہ ہے اُسوہ آپ کا جنت قدم یا نبی یا احمدِ مختار یا خیر البشر آپ کی نسبت سے امت کا لقب خیر الامم دل کی ہر اک ضرب ہے صلِ علیٰ صلِ علیٰ اور لب پر یا…

Read More

طارق بٹ ۔۔۔ یہ زندگی جو مرے چار سو ہُمکتی ہے

یہ زندگی جو مرے چار سو ہُمکتی ہے اِسی میں عصر کی آئندگی جَھلکتی ہے فریب دیتی ہے آنکھوں کو روشنی اس کی وداعِ شب، یہ جو کاذب سی لو بھڑکتی ہے اِسی دیار، کہ ہر سو سماں تھا میلے سا کسی تلاش میں، ویرانگی بھٹکتی ہے رہے نہ اب وہ سبک گام، قافلے، دل کے نہ خاک اُٹھ کے سرِ راہ سر پٹکتی ہے گلہ گزار نہ تجھ سے نہ اپنے آپ سے ہوں اسی کے کام ہیں، سارے میں جس کی شکتی ہے ہے غوطہ زن یہ نظر…

Read More

طارق بٹ ۔۔۔ اک کہانی تھی دل سمائی ہوئی

اک کہانی تھی دل سمائی ہوئی کیا کہوں کون تھی، پرائی ہوئی کبھی پروا کبھی وہ باد صبا کہیں خوشبو کے بھیس آئی ہوئی دھوپ سائے سی جلوَگی اس کی سہمی سہمی، ادا نہائی ہوئی کار صورت گری تھا اس پہ تمام کیا تھی مورت، سجی سجائی ہوئی عشق کی اک ملامتی سی نظر اور جو پھر ہے جگ ہنسائی ہوئی وقت کی ڈھیل میں ہے ہر لمحہ ڈُور بھی اُس کی ہے لگائی ہوئی روز کٹتی ہے اک خیال پتنگ روز اک دید ماورائی ہوئی بجھتی جاتی ہے ہر…

Read More

محمد یعقوب آسی ۔۔۔ ہوا لے گئی مجھے (طارق اقبال بٹ کی ’’صداے موسمِ گل‘‘ کے تعاقب میں)

ہوا لے گئی مجھے (طارق اقبال بٹ کی ’’صداے موسمِ گل‘‘ کے تعاقب میں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہندوستان میں انگریز راج کا رسمی ہی سہی خاتمہ ہوتا ہے۔ کروڑوں اسلامیانِ ہند کے دلوں کی دھڑکنیں روح و بدن میں سنسنا اٹھتی ہیں، قافلوں کے قافلے آرزوؤں اور امنگوں کا زادِ سفر لئے اپنے کھیتوں، حویلیوں، کارخانوں کو تج کر سرزمینِ پاکستان کی طرف نکل پڑتے ہیں، یہ جانے سوچے بغیر کہ وہاں پہنچ کر جانے کیسے حالات پیش ہوں، کن لوگوں سے پالا پڑے۔ پاکستان کا مطلب کیا؛ لاالٰہ الا اللہ! یہی…

Read More

طارق بٹ

قید کیا تھی، کسے رہائی ہوئیکھوئی دل نے، مراد پائی ہوئی خود کو رکھا گرو نہ جاں ہارےاب کے بازار میں صفائی ہوئی اک ضرورت سے تجھ کو یاد کیاوضع اپنی بھی روستائی ہوئی کام آئی ہے دشمنوں کی طرحکوئی پہچان، آزمائی ہوئی کیسے بے سمتگی کے عالم میںتجھ اندھیرے سے روشنائی ہوئی جل بجھا ہوں ستارہ سا لیکنروشنی ہے مری کمائی ہوئی آج بھی دیکھتا ہوں حیرت سےرُت جو آئے سجی سجائی ہوئی کسرِ شاں ہم سے گر گدائی ہوئیآپ سے بھی نہ میرزائی ہوئی چھوڑ جائیں گے ہم…

Read More

طارق بٹ ۔۔۔ کوئی اس درجہ کامران نہ تھا

کوئی اس درجہ کامران نہ تھا ہم جہاں تھے وہ آسمان نہ تھا کہیں بے انت تھا نشان اپنا یہ زمان اور یہ مکان نہ تھا کوئی تھا، میں تھا یا کہ تو ہی تو کیا تھا جب کچھ بھی درمیان نہ تھا آپ اپنا بیاں ہے، ہر موجود سچ کسی لمحہ بے زبان نہ تھا تختۂ دار سا نہ تخت کوئی جس نے پایا، اسے گمان نہ تھا

Read More

طارق بٹ … کوئی اس درجہ کامران نہ تھا

کوئی اس درجہ کامران نہ تھا ہم جہاں تھے وہ آسمان نہ تھا کہیں بے انت تھا نشان اپنا یہ زمان اور یہ مکان نہ تھا کوئی تھا، میں تھا یا کہ تو ہی تو کیا تھا جب کچھ بھی درمیان نہ تھا آپ اپنا بیاں ہے، ہر موجود سچ کسی لمحہ بے زبان نہ تھا تختۂ دار سا نہ تخت کوئی جس نے پایا، اسے گمان نہ تھا

Read More

طارق بٹ … آنکھ   وہ  جھلمل تاروں  سی

آنکھ   وہ  جھلمل تاروں  سی دور   کے  منظر   زاروں    سی مست بھی ہے ہشیار بھی وہ گرم  نظر   دل داروں     سی کھنچی کمان بھویں ہیں کیا اڑتی  کونج    قطاروں   سی بھید سجھاتی آنکھوں میں روک بھی ہے  دیواروں  سی سیر کریں،  اور لوٹ آئیں پلک تلے،  تھک ہاروں سی روپ کی نکھری نکھری دھوپ صبح    صبیح    بہاروں   سی میم    ملاحت  چہرے   کی نون  نمک   کہساروں   سی اس کا روپ  سروپ   انوپ خوش طبعی گل زاروں سی ایک نگہ کوئی کیا دیکھے صورت صد  نظّاروں  سی

Read More

طارق بٹ ۔۔۔ تروینی

تروینی اپنے گھر  میں ہوںاپنی چہکاروں میںاپنے بچوں پاس کیا سے کیا نقشِ عرصہ گزراںچھب دکھاتا ہے پردہ دل پرموند کرتو بھی دیکھ، آنکھوں کو کیا سے کیا عکس ہیں نہاں اس میںپوچھ مت آئنہ صفت دل کیعمرو عیار کی ہے یہ زنبیل تیر و تلوار سہی، وار ترے لہجے کاکاٹ میں کم نہیں کچھ سادہ بیانی اپنیچار آئینہ تو ملبوس نہیں تیرا بھی ٹوٹ کر خود پہ پیار آیا تھاکرچیاں اپنی چن رہا ہوں میںقہر ہے خود پہ آئنہ ہونا تیز،  نوکیلی ہیں سب کانچ کے ٹکڑوں جیسیدھیان سے چھونا…

Read More