شاہد اشرف ۔۔۔ جتن کے بعد کہیں اِس طرح ہوا ہوں میں

جتن کے بعد کہیں اِس طرح ہوا ہوں میں
شدید چوٹ لگی اور ہنس پڑا ہوں میں
میں انتظار ہی کرتا رہا ہوں آہٹ کا
نجانے کتنے چراغوں میں جل بجھا ہوں میں
کسی بھی ذہن نے سوچا نہیں مجھے ورنہ
خیال و خواب کے اندر پڑا ہوا ہوں میں
سکوں ملا مجھے بے رنگ ہو کے دنیا میں
ہر ایک رنگ کے کپڑے پہن چکا ہوں میں
سفر سے لوٹ کے آیا تو سو گیا تھک کر
کسی کے دھیان میں مدت سے جاگتا ہوں میں
معاملات میں حسّاس تھا میں بچپن میں
کہ جیسے گھر کے سب افراد سے بڑا ہوں میں
مکان سے نہیں شاہد گریز کی صورت
کہیں زمان سے باہر بھی جا بجا ہوں میں

Related posts

Leave a Comment