شاہد اشرف ۔۔۔ اہلِ ایمان کو قطرہ بھی میسّر نہیں تھا

اہلِ ایمان کو قطرہ بھی میسّر نہیں تھا آبِ دریا, لبِ دریا بھی میسّر نہیں تھا پانی پیتے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھتا ہوں جتنا ضائع ہوا اتنا بھی میسّر نہیں تھا آگے جانے کے لیے شرط تھی بیعت کر لو واپسی کے لیے رستہ بھی میسّر نہیں تھا اس گھرانے سے زمانے کو شفا ہے جس کے ایک بیمار کو پُرسا بھی میسّر نہیں تھا ساتھ اُس وقت دیا ابنِ علی کا حُر  نے جب عداوت کا سلیقہ بھی میسّر نہیں تھا جن سے دنیا کو ملا سایۂ رحمت…

Read More

ڈاکٹر شاہد اشرف

شاہد اشرف سامنا کیسے کروں جتنی آلودہ جبیں ہے ان دنوں

Read More

شاہد اشرف

پھول اتنے ہیں سنھبالے نہیں جاتے مجھ سے اور کانٹے بھی نکالے نہیں جاتے مجھ سے

Read More

شاہد اشرف

زندگی مشکل تھی لیکن اس قدر مشکل نہ تھیآنگنوں میں شب اترتی تھی سحر مشکل نہ تھی

Read More

شاہد اشرف ۔۔۔ جتن کے بعد کہیں اِس طرح ہوا ہوں میں

جتن کے بعد کہیں اِس طرح ہوا ہوں میں شدید چوٹ لگی اور ہنس پڑا ہوں میں میں انتظار ہی کرتا رہا ہوں آہٹ کا نجانے کتنے چراغوں میں جل بجھا ہوں میں کسی بھی ذہن نے سوچا نہیں مجھے ورنہ خیال و خواب کے اندر پڑا ہوا ہوں میں سکوں ملا مجھے بے رنگ ہو کے دنیا میں ہر ایک رنگ کے کپڑے پہن چکا ہوں میں سفر سے لوٹ کے آیا تو سو گیا تھک کر کسی کے دھیان میں مدت سے جاگتا ہوں میں معاملات میں حسّاس…

Read More

شاہد اشرف ۔۔۔ خود کلامی

خود کلامی ۔۔۔۔۔۔۔۔ دل کی دھڑکن یا کسی کی چاپ تھی میں اکیلا تو نہیں تھا میری آنکھوں میں بہت سے سرخ ڈورے تیرتے تھے اور تکیے پر بنے پھولوں کی رنگت زرد ہوتی جا رہی تھی میری خواہش میں کوئی سلوٹ نہیں میں اگر چہ سخت افسردہ تھا لیکن مسکراہٹ آئنے میں منتظر تھی خود سے ملنا بھی خوشی کا واقعہ تھا میں بدلتا جا رہا تھا اک نئے سانچے میں ڈھلتا جا رہا تھا اور دنیاوی کمی یا پھر اضافے سےپریشاں بھی نہیں تھا جیسے سب کچھ نارمل…

Read More

شاہد اشرف ۔۔۔ خوبصورت ہیں زمین و آسماں ترتیب سے

خوبصورت ہیں زمین و آسماں ترتیب سےحُسنِ فطرت نے بنایا ہے جہاں ترتیب سےاک نئے انداز سے گھر کو سجانا ہے مجھےسوچتا ہوں خود کو رکھنا ہے کہاں ترتیب سےاِس سے آگے قافلے کا کچھ پتا چلتا نہیںدشت تک جاتے ہیں قدموں کے نشاں ترتیب سےوہ مرا کردار منہا کر رہا ہے بار باراور سناتا ہی نہیں ہے داستاں ترتیب سےایک خود رو پھول کی صورت کہیں مہکا ہواجھومتا ہوں جھاڑیوں کے درمیاں ترتیب سےاس سے پہلے تو درختوں کی قطاریں تھیں یہاںکاٹ کر جن کو بنائے ہیں مکاں ترتیب…

Read More

نعت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔ شاہد اشرف

شادمانی میں اک آنسو بھی نکل آیا ہے روضۂ شاہ پہ بدّو بھی نکل آیا ہے ! ایک بازو سے ٹکا رکّھا تھا سر جالی پر رشک سے دوسرا بازو بھی نکل آیا ہے محوِ پرواز پرندے ہیں مدینے کی طرف دیکھ کر دشت میں آہو بھی نکل آیا ہے اتنی زرخیز زمیں ہے کہ ثنا کرتے ہوئے اک نئی نعت کا پہلو بھی نکل آیا ہے ہر فصاحت تھی فقط اہلِ عرب کو زیبا نعت میں صاحبِ اُردو بھی نکل آیا ہے دیکھ کر مجھ کو مرے دل نے…

Read More