اہلِ ایمان کو قطرہ بھی میسّر نہیں تھا
آبِ دریا, لبِ دریا بھی میسّر نہیں تھا
پانی پیتے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھتا ہوں
جتنا ضائع ہوا اتنا بھی میسّر نہیں تھا
آگے جانے کے لیے شرط تھی بیعت کر لو
واپسی کے لیے رستہ بھی میسّر نہیں تھا
اس گھرانے سے زمانے کو شفا ہے جس کے
ایک بیمار کو پُرسا بھی میسّر نہیں تھا
ساتھ اُس وقت دیا ابنِ علی کا حُر نے
جب عداوت کا سلیقہ بھی میسّر نہیں تھا
جن سے دنیا کو ملا سایۂ رحمت ان کو
کوئی دیوار کا سایہ بھی میسّر نہیں تھا
حکمرانوں کے لیے ایک سبق ہے شاہد
بعد ازاں قبر پہ کتبہ بھی میسر نہیں تھا
