فاقہ ہے بہت دِن سے بہت پیاس ہے عبّاس ! لوٹ آؤ ، سکینہ کو ابھی آس ہے عبّاس ! عبّاس جو آتے تھے تو خوش ہوتی تھیں زینب فرماتی تھیں : کیا غم ہے اگر پاس ہے عبّاس وہ ایسا جَری ہے کہ وفا ختم ہے اُس پر دِل کے لئے ایمان کا احساس ہے عبّاس کیا کیا صِفَتیں اِس میں ہیں ، شبّیر سے پوچھو حیدر ہے، علَم دار ہے، عبّاس ہے عبّاس !! زہرا کی دعا ہے تو علی کا ہے وہ مقصود جو صرف علی کا…
Read MoreTag: Imam Hussain
سلام بحضور امامِ عالی مقام ۔۔۔ شکیل جاذب
سلام بحضور امامِ عالی مقام بس کُشتگانِ راہِ ابد گیر کر گئے دشتِ بلا کی خاک کو اکسیر کر گئے صدیوں سے جس کی ہمّتِ انساں تھی منتظر وہ کام حق کی راہ میں شبّیر کر گئے اک خیمۂ جمال کے بجھتے ہوئے چراغ راہِ وفا میں روشنی تحریر کر گئے عبّاس اپنے بازو کٹا کر لبِ فُرات باطل کے دستِ ظلم کو زنجیر کر گئے جو تیر کربلا میں چلے تھے حُسین پر دراصل مُصطفےٰ (ص) کا جگر چیر کر گئے آنکھوں میں اشک چاک گریباں سروں پہ خاک…
Read Moreغلام محمد قاصر ۔۔۔ کچھ ایسی بات محرم کا چاند کہتا ہے
کچھ ایسی بات محرم کا چاند کہتا ہے کہ سال بھر مرا دل کربلا میں رہتا ہے چلیں نشیب کو دریا مگر تمھارے لیے فراتِ اشک بُلندی کی سمت بہتا ہے اک استعارۂ ہجرت ہے روشنی کی طرف جہاں کہیں بھی پرندہ سفر میں رہتا ہے کہ داستانِ عروج و زوالِ ملّت میں وہی تو سچ ہے جو حصّہ حُسینٌ کہتا ہے
Read Moreنسیم امروہوی
حیدر سا بہادر کوئی ہوگا نہ ہوا ہے ہاں حضرتِ عباس کو کہیے تو بجا ہے ان کو بھی وہی زور وہی رعب ملا ہے یہ ایک شرف شیرِ خدا سے بھی سوا ہے سقّائی کا عہدہ تو علی کو نہ ملا تھا لیکن کوئی سقّا کہیں پیاسا نہ سنا تھا
Read Moreحفیظ تائب ۔۔۔ حسین ابنِ علی کو امام جانتا ہوں
رموزِ عشق و محبّت تمام جانتا ہوں حسین ابنِ علی کو امام جانتا ہوں انھی کے در کو سمجھتا ہوں محورِ مقصود انھی کے گھر کو میں دارالسّلام جانتا ہوں میں ان کی راہ کا ہوں ایک ذرۂ ناچیز کہوں یہ کیسے کہ ان کا مقام جانتا ہوں مجھے امام نے سمجھائے ہیں نکاتِ حیات سوادِ کفر میں جینا حرام جانتا ہوں نگاہ کیوں ہے مری ظاہری وسائل پر جو خود کو آلِ نبی کا غلام جانتا ہوں میں جان و مال کو پھر کیوں عزیز رکھتا ہوں جو خود…
Read Moreکامی شاہ ۔۔۔ چشمِ نم کو دیکھیے، دل کے غم کو دیکھیے
چشمِ نم کو دیکھیے، دل کے غم کو دیکھیے جائیے ہم کو جانیے، جائیے ہم کو دیکھیے پچھلے قدم کی دھول کو جھاڑ کے آگے آئیے رستے کے ساتھ بھاگتے اگلے قدم کو دیکھیے خیموں میں اک چراغ بھی جلنے نہیں دیا گیا شہرِ ستم کی شام میں اہلِ ستم کو دیکھیے کچھ بھی نہ اور دیکھیے تیغ و تبر کے باب میں دیکھیے بس حسینؑ کے رنج و الم کو دیکھیے ہم کو امامِ صبر نے ایک یہی سبق دیا اُس کی رضا کو دیکھیے، اُس کے کرم کو…
Read Moreسلام بحضورِ امام عالی مقام حسين عليہ السّلام ۔۔۔ افضل گوہر
سلام بحضورِ امام عالی مقام حسين عليہ السّلام تھک گيا جو بھی یہ طے راہگزر کرتا ہے کون تيری طرح نيزے پہ سفر کرتا ہے آج بھی ميرے تعاقب ميں ہے اک ايسا يزيد پانی مانگوں تو بدن خون سے تر کرتا ہے کربلا اپنے تقدس کو سنبھالے رکھنا خون ايسا ہے کہ ذرّات کو زر کرتا ہے سب کو رونے کا سليقہ نہيں آتا ،ورنہ تيرا ماتم تو ہر اک دل پہ اثر کرتا ہے ہم حسينی ہيں ہميں اس ليے افضل گوہر کوئ پابند ، کوئ شہر بدر…
Read Moreسلام ۔۔۔ حمیدہ شاہین
سلام غمِ حسینؑ حقیقت بھی، استعارا بھی یہ اپنے آپ میں غم بھی ہے ، غم کا چارا بھی ہے ایک یاد دہانی یہ ذکرِ کرب و بلا کہ اپنے درد بھی سانجھے ہیں اور خسارا بھی پکارتے ہیں زمان و مکاں بھی نوحہ کناں غمِ حسینؑ ہمارا بھی ہے تمہارا بھی بیانِ قصّہِ غم آنسوؤں پہ فرض ہوا کسی کمی کو جو کرتے نہیں گوارا بھی کمالِ آیۂ بالصّبر والصّلوٰۃ حسینؑ جو ایک وعدہ بھی ، امّید بھی ، سہارا بھی کس آفتاب پر اَن ہونیوں کی شام آئی…
Read Moreنذیر حسین بٹ ۔۔
ہر دور کے یزید کی مجلس میں بیٹھ کر دیتے ہیں لوگ گالیاں گذرے یزید کو
Read Moreہدیہِ عقیدت بحضور سید الشہداء حضرت امام حُسینؑ ۔۔۔ ذیشان سید
ہدیہِ عقیدت بحضور سید الشہداء حضرت امام حُسینؑ حمد سے والناس کی تفسیر کا بانی حُسینؑ کاتبِ تقدیر کی تقدیر کا بانی حٗسینؑ دے دیئے بیٹے کسی کو تو کسی کو پر دیے لوح پہ لکھی ھُوئی تقدیر کا بانی حُسینؑ جُھک گئے سارے پیغمبر جب چڑھا نیزے پہ سَر دہر میں اسلام کی توقیر کا بانی حُسینؑ از سرِ نو کربلا میں زندگی بخشی جسے مذہبِ اسلام کی تعمیر کا بانی حُسین
Read More