مولانا محمد علی جوہر ۔۔۔ سلام

بیتاب کر رہی ہے تمنّائے کربلا یاد آ رہا ہے بادیہ پیمائے کربلا ہے مقتلِ حسین میں اب تک وہی بہار ہیں کس قدر شگفتہ یہ گلہائے کربلا روزِ ازل سے ہے یہی اک مقصدِ حیات جائے گا سر کے ساتھ، ہے سودائے کربلا جو رازِ کیمیا ہے نہاں خاک میں اُسے سمجھا ہے خوب ناصیہ فرسائے کربلا مطلب فرات سے ہے نہ آبِ حیات سے ہوں تشنۂ شہادت و شیدائے کربلا جوہر مسیح و خضر کو ملتی نہیں یہ چیز اور یوں نصیب سے تجھے مل جائے کربلا

Read More

فیض رسول فیضان ۔۔۔۔ سلام

سلام کیا جلوہ کربلا میں دکھایا حسینؓ نے سجدے میں جا کے سر کو کٹایا حسینؓ نے خوش بخت تھا کہ آپ کے قدموں پہ آگرا سویا نصیب حُر کا جگایا حسینؓ نے نیزے پہ سر تھا اور زباں پر تھیں آیتیں قرآن اِس طرح بھی سنایا حسینؓ نے ناناؐ کے پاک نام پہ ہر چیز وار دی کچھ بھی نہ اپنے پاس بچایا حسینؓ نے صدمے سے قدسیوں کی بھی چیخیں نکل گئیں اصغرؓ کو جب گلے سے لگایا حسینؓ نے راہِ خدا میں جان کی بازی لگا گئے…

Read More