مولانا محمد علی جوہر ۔۔۔ سلام

بیتاب کر رہی ہے تمنّائے کربلا یاد آ رہا ہے بادیہ پیمائے کربلا ہے مقتلِ حسین میں اب تک وہی بہار ہیں کس قدر شگفتہ یہ گلہائے کربلا روزِ ازل سے ہے یہی اک مقصدِ حیات جائے گا سر کے ساتھ، ہے سودائے کربلا جو رازِ کیمیا ہے نہاں خاک میں اُسے سمجھا ہے خوب ناصیہ فرسائے کربلا مطلب فرات سے ہے نہ آبِ حیات سے ہوں تشنۂ شہادت و شیدائے کربلا جوہر مسیح و خضر کو ملتی نہیں یہ چیز اور یوں نصیب سے تجھے مل جائے کربلا

Read More

افضل خان کی غزل ۔۔۔ نوید صادق

افضل خان کی غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عہدِ جدید نے جہاں بہت سی آسانیاں پیدا کیں، وہاں نفسیاتی اُلجھنوں کو بھی جنم دیا، رواروی کو رواج دیا۔ فارسی غزل سے ہوتی ہوئی جو محبت ہماری غزل میں آن داخل ہوئی، اس کو محض ایک روایت یا نقالی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ایک انسانی تجربہ ہے جو ہر دور میں مختلف رہا ہے۔ اس میں مختلف عوامل دخیل رہے ہیں۔ میر کا عشق، غالب کا عشق، فراق کا عشق اور پھر ہمارے قریب کے عہد میں ناصر کاظمی کا عشق ۔۔۔…

Read More