سیف الدین سیف ۔۔۔ سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا

سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا اس کی ہنسی نے آج مجھے تو رلا دیا خود بھی تو وہ بچھڑ کر ادھورا سا ہو گیا مجھ کو بھی اس ہجوم میں تنہا بنا دیا​

Read More

مینو بخشی ۔۔۔ آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے

آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے دل میں ہے درد کا طوفان خدا خیر کرے رات کو نیند نہیں صبح کو آرام نہیں ان کے آنے کا ہے امکان خدا خیر کرے وہ ملاتے ہیں نظر غیر کی صورت ہم سے یہ تو ہے موت کا سامان خدا خیر کرے یہ سنا ہے کہ دکھائیں گے وہ جلوہ اپنا دل کے اب نکلیں گے ارمان خدا خیر کرے اب مجھے دیکھ کے کترانے لگی ہے دنیا مٹ گئی وہ مری پہچان خدا خیر کرے جس کی فطرت ہے…

Read More

دلاور فگار

جو تیتر اور چکور ہیں وہی پکڑیں ان کو جو چور ہیں میں چکور اکور کا کیا کروں مری فاختہ کوئی اور ہے

Read More

منیر نیازی

رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا اِتنا مَیں چُپ ہُوا کہ تماشا نہیں ہُوا ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیں رستہ ہے اِس طرح کا جو دیکھا نہیں ہُوا مُشکل ہُوا ہے رہنا ہمیں اِس دیار میں برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہُوا وُہ کام شاہِ شہر سے  یا شہر سے ہُوا جو کام بھی ہُوا ہے ، وُہ اچھا نہیں ہُوا مِلنا تھا ایک بار اُسے پھر کہِیں مُنیر ایسا مَیں چاہتا تھا پر ایسا نہیں ہُوا

Read More

عزیز قیسی

والہانہ مرے دل میں مری جاں میں آ جا میرے ایماں میں مرے وہم و گماں میں آ جا

Read More