جو تیتر اور چکور ہیں وہی پکڑیں ان کو جو چور ہیں میں چکور اکور کا کیا کروں مری فاختہ کوئی اور ہے
Read MoreDay: جولائی 18، 2026
منیر نیازی
رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا اِتنا مَیں چُپ ہُوا کہ تماشا نہیں ہُوا ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیں رستہ ہے اِس طرح کا جو دیکھا نہیں ہُوا مُشکل ہُوا ہے رہنا ہمیں اِس دیار میں برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہُوا وُہ کام شاہِ شہر سے یا شہر سے ہُوا جو کام بھی ہُوا ہے ، وُہ اچھا نہیں ہُوا مِلنا تھا ایک بار اُسے پھر کہِیں مُنیر ایسا مَیں چاہتا تھا پر ایسا نہیں ہُوا
Read Moreعزیز قیسی
والہانہ مرے دل میں مری جاں میں آ جا میرے ایماں میں مرے وہم و گماں میں آ جا
Read Moreادا جعفری
خلشِ تیرِ بے پناہ گئی لیجیے ان سے رسم و راہ گئی
Read More