دلاور فگار

جو تیتر اور چکور ہیں وہی پکڑیں ان کو جو چور ہیں میں چکور اکور کا کیا کروں مری فاختہ کوئی اور ہے

Read More

منیر نیازی

رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا اِتنا مَیں چُپ ہُوا کہ تماشا نہیں ہُوا ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیں رستہ ہے اِس طرح کا جو دیکھا نہیں ہُوا مُشکل ہُوا ہے رہنا ہمیں اِس دیار میں برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہُوا وُہ کام شاہِ شہر سے  یا شہر سے ہُوا جو کام بھی ہُوا ہے ، وُہ اچھا نہیں ہُوا مِلنا تھا ایک بار اُسے پھر کہِیں مُنیر ایسا مَیں چاہتا تھا پر ایسا نہیں ہُوا

Read More

عزیز قیسی

والہانہ مرے دل میں مری جاں میں آ جا میرے ایماں میں مرے وہم و گماں میں آ جا

Read More