شاہد اشرف سامنا کیسے کروں جتنی آلودہ جبیں ہے ان دنوں
Read MoreTag: Shahid Ashraf
شاہد اشرف
پھول اتنے ہیں سنھبالے نہیں جاتے مجھ سے اور کانٹے بھی نکالے نہیں جاتے مجھ سے
Read Moreشاہد اشرف
زندگی مشکل تھی لیکن اس قدر مشکل نہ تھیآنگنوں میں شب اترتی تھی سحر مشکل نہ تھی
Read Moreشاہد اشرف… اس طرح شہری گھروں میں خوف سے بیٹھے ہوئے ہیں
اس طرح شہری گھروں میں خوف سے بیٹھے ہوئے ہیںجیسے زنداں میں سزائے موت کے قیدی پڑے ہیں جب کوئی باہر نکلنا چاہتا ہے گھر سے اپنےچار جانب سے کئی نا دیدہ خدشے دیکھتے ہیں جاگتے میں دیکھ لوں گا, تم اگر سونے نہ دو گےخواب تکیے پر جو میرے قابلِ ضبطی رکھے ہیں سر اُٹھائے بیل اپنے دھیان میں چھت پر چلی تودیکھ کر کھڑکی کھلی کمرے میں کچھ پھول آ گئے ہیں ماسک مجبوری کو چہرے پر عیاں ہونے نہ دے گاباوجود اس کے کشادہ دل کھلے بازو…
Read Moreشاہد اشرف ۔۔۔ شک کی بنیاد پہ چشمے کو کنواں جانتا ہے
شک کی بنیاد پہ چشمے کو کنواں جانتا ہے میرے پھیلے ہوئے بازو کو کماں جانتا ہے میں نیا شہر میں آیا ہوں مجھے علم نہیں راستہ پوچھنے والا یہ کہاں جانتا ہے خود کو گرنے سے کئی بارسنبھالا میں نے ایک لغزش کو مگر سارا جہاں جانتا ہے باوجود اس کے کنارے پہ کھڑا ہوں لیکن عکس کے بارے فقط آبِ رواں جانتا ہے بولنے کے لیے الفاظ ضروری نہیں ہیں عام سا شخص بھی جذبوں کی زباں جانتا ہے جمع تفریق سے اندازہ نہیں ہو سکتا میرے بارے…
Read Moreشاہد اشرف
شاہد اشرف ۔۔۔ خود کلامی
خود کلامی ۔۔۔۔۔۔۔۔ دل کی دھڑکن یا کسی کی چاپ تھی میں اکیلا تو نہیں تھا میری آنکھوں میں بہت سے سرخ ڈورے تیرتے تھے اور تکیے پر بنے پھولوں کی رنگت زرد ہوتی جا رہی تھی میری خواہش میں کوئی سلوٹ نہیں میں اگر چہ سخت افسردہ تھا لیکن مسکراہٹ آئنے میں منتظر تھی خود سے ملنا بھی خوشی کا واقعہ تھا میں بدلتا جا رہا تھا اک نئے سانچے میں ڈھلتا جا رہا تھا اور دنیاوی کمی یا پھر اضافے سےپریشاں بھی نہیں تھا جیسے سب کچھ نارمل…
Read Moreشاہد اشرف ۔۔۔ خوبصورت ہیں زمین و آسماں ترتیب سے
خوبصورت ہیں زمین و آسماں ترتیب سےحُسنِ فطرت نے بنایا ہے جہاں ترتیب سےاک نئے انداز سے گھر کو سجانا ہے مجھےسوچتا ہوں خود کو رکھنا ہے کہاں ترتیب سےاِس سے آگے قافلے کا کچھ پتا چلتا نہیںدشت تک جاتے ہیں قدموں کے نشاں ترتیب سےوہ مرا کردار منہا کر رہا ہے بار باراور سناتا ہی نہیں ہے داستاں ترتیب سےایک خود رو پھول کی صورت کہیں مہکا ہواجھومتا ہوں جھاڑیوں کے درمیاں ترتیب سےاس سے پہلے تو درختوں کی قطاریں تھیں یہاںکاٹ کر جن کو بنائے ہیں مکاں ترتیب…
Read Moreنعت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔ شاہد اشرف
شادمانی میں اک آنسو بھی نکل آیا ہے روضۂ شاہ پہ بدّو بھی نکل آیا ہے ! ایک بازو سے ٹکا رکّھا تھا سر جالی پر رشک سے دوسرا بازو بھی نکل آیا ہے محوِ پرواز پرندے ہیں مدینے کی طرف دیکھ کر دشت میں آہو بھی نکل آیا ہے اتنی زرخیز زمیں ہے کہ ثنا کرتے ہوئے اک نئی نعت کا پہلو بھی نکل آیا ہے ہر فصاحت تھی فقط اہلِ عرب کو زیبا نعت میں صاحبِ اُردو بھی نکل آیا ہے دیکھ کر مجھ کو مرے دل نے…
Read Moreشاہد اشرف
بہت ناراض ہو ان کھڑکیوں کے شیشے مت توڑو مکینوں سے گلہ ہو تو مکاں سے کچھ نہیں کہتے
Read More