سید آل احمد ۔۔۔ زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہے

زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہےفن کو تہذیب کی بارش سے جِلا ملتی ہے سر میں سودا ہے تو چاہت کے سفرپر نکلیںکرب کی دھوپ طلب سے بھی سوا ملتی ہے کون سی سمت میں ہجرت کا ارادہ باندھیںکوئی بتلائے کہاں تازہ ہوا ملتی ہے چاند چہرے پہ جواں قوسِ قزح کی صورتتیری زُلفوں سے گھٹاؤں کی ادا ملتی ہے ہم تو پیدا ہی اذیت کے لیے ہوتے ہیںہم فقیروں سے تو دُکھ میں بھی دُعا ملتی ہے کتنا دُشوار ہے اب منزلِ جاناں  کا سفرخواہش قربِ بدن…

Read More

باقی احمد پوری … یہ شہر نہیں آسان میاں

یہ شہر نہیں آسان میاں مشکل ہے یہاں گزران میاں اب کیا ہوگا، کل کیا ہوگا اک دھڑکا ہے ہر آن میاں ان گلیوں میں، بازاروں میں دیکھا ہے کوئی انسان میاں بے سود یہاں ہر سود ہوا نقصان پہ ہے نقصان میاں دیوار نہیں اور در بھی نہیں پھر کاہے کو دربان میاں ناممکن سی جو لگتی ہے اس بات کا ہے امکان میاں اس خاک سے خاک ہی نکلے گی یہ خاک تو خود ہی چھان میاں یہ کیسی جنگ مسلط ہے یہ کیسا ہے گھمسان میاں میں…

Read More

آفتاب خان … اگر یہ عشق مصیبت میں ڈالتا ہے مجھے

اگر یہ عشق مصیبت میں ڈالتا ہے مجھے فلک سے آکے فرشتہ نکالتا ہے مجھے میں روز ایک نئی بحر میں الجھتا ہوں یہ کون شعر و سخن میں اچھالتا ہے مجھے مرا شمار بھی ہوگا گناہ  گاروں میں وہ جانتا ہے مگر پھر بھی پالتا ہے مجھے میں زندگی میں کئی بار ڈگمگایا ہوں مگر وہی تو ہمیشہ سنبھالتا ہے مجھے قدم قدم پہ رکاوٹ کا سامنا ہے مگر وہ امتحان سے کندن میں ڈھالتا ہے مجھے بدن سے میل کسی طور اب اتر جائے وہ اس لیے لبِ…

Read More

شاہد اشرف… اس طرح شہری گھروں میں خوف سے بیٹھے ہوئے ہیں

اس طرح شہری گھروں میں خوف سے بیٹھے ہوئے ہیںجیسے زنداں میں سزائے موت کے قیدی پڑے ہیں جب کوئی باہر نکلنا چاہتا ہے گھر سے اپنےچار جانب سے کئی نا دیدہ خدشے دیکھتے ہیں جاگتے میں دیکھ لوں گا, تم اگر سونے نہ دو گےخواب تکیے پر جو میرے قابلِ ضبطی رکھے ہیں سر اُٹھائے بیل اپنے دھیان میں چھت پر چلی تودیکھ کر کھڑکی کھلی کمرے میں کچھ پھول آ گئے ہیں ماسک مجبوری کو چہرے پر عیاں ہونے نہ دے گاباوجود اس کے کشادہ دل کھلے بازو…

Read More